اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے تیاریاں جاری ہیں، سیرینا ہوٹل میں امریکی وفد کے لیے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ہوٹل ذرائع کے مطابق اتوار سے ہوٹل کو پاکستانی حکام نے خالی کرا لیا ہے، اور ہوٹل میں موجود مہمانوں کو دیگر ہوٹلوں میں منتقل کر کے سیرینا کو مکمل طور پر مذاکرات میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کے لیے مختص کرلیا گیا ہے۔
ہوٹل میں کام کرنے والے ایک ملازم نے بتایا کہ ہوٹل اس وقت سخت سکیورٹی حصار میں ہے اور داخلے کے لیے صرف ایک راستہ رکھا گیا ہے جبکہ اسٹاف کو بھی سخت چیکنگ اور تصدیق کے بعد ہی داخلے کی اجازت مل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق سیرینا میں امریکی وفد قیام کرے گا۔ تمام ملاقاتیں اور مذاکرات بھی سیرینا میں ہی ہوں گے۔
حکام کے مطابق سیرینا کے علاوہ میریٹ ہوٹل کو بھی خالی کیا گیا ہے، جہاں ایرانی وفد کو قیام کرایا جائے گا۔
سیرینا کو آرٹ ورک اور پاکستانی ثقافت سے سجایا گیا
ہوٹل ملازم نے بتایا کہ ہوٹل کے اندر اس وقت انتظامیہ اور حکومتی حکام کی نگرانی میں آرٹ ورک اور پاکستانی ثقافت سے سجانے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کے استقبالیہ اور ہال کے دروازوں کو آرٹ ورک سے سجایا گیا ہے جو پاکستانی ثقافت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کانفرنس ہال میں تزئین و آرائش کا کام بھی کیا گیا ہے اور مرمت بھی مکمل ہو چکی ہے۔
’ہوٹل کے ایک ایک حصے کو چیک کیا جا رہا ہے۔ اسے مکمل طور پر سجایا جا رہا ہے، اور اس میں پاکستانی ثقافت کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری
انہوں نے بتایا کہ آرٹ ورک کی نگرانی سرکاری حکام کر رہے ہیں، جبکہ ہوٹل کے سی ای او خود بھی معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی وفود کے لیے کمروں کو بھی پہلے سے تیار کیا گیا ہے اور سیکیورٹی کلیئرنس بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
امریکی صحافیوں کی چیک اِن
سیرینا ہوٹل کے ملازم نے بتایا کہ ابھی تک امریکی یا ایرانی وفد تو نہیں پہنچا، تاہم امریکی صحافیوں کا ایک گروپ مذاکرات کی کوریج کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کا گروپ سیرینا میں چیک اِن کر چکا ہے۔ ان صحافیوں کو بھی امریکی وفد کی آمد کا انتظار ہے۔
مذاکرات اور میٹنگز سیرینا میں ہی ہوں گی
حکام کے مطابق ایران امریکا مذاکرات سیرینا ہوٹل میں ہی ہوں گے، جس کے لیے کانفرنس رومز کو تیار کیا گیا ہے۔ ہوٹل کے باخبر ملازم نے بتایا کہ ہوٹل میں رہائش کے علاوہ دیگر انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ دونوں وفود کے لیے الگ الگ ریسٹورنٹس مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ان کی پسند کے مطابق کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانوں میں پاکستانی پکوان بھی شامل ہیں تاکہ غیر ملکی وفود کو پاکستانی کھانوں سے بھی لطف اندوز کرایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے ’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال
انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کو پاکستانی حکام نے خالی کرایا ہے۔ ہفتے کے روز 60 فیصد ہوٹل بک تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل میں 388 کمرے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی حکام نے اپنے تمام بلز کلیئر کیے تھے۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات
حکام کے مطابق سیرینا ہوٹل میں سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں اور سیکیورٹی آرمی کی نگرانی میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل میں ضروری اسٹاف کے علاوہ کسی غیر متعلقہ فرد کو داخلے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی، جبکہ جس روز مذاکرات ہوں گے، اس روز اسٹاف کو بھی غیر ضروری آمد و رفت کی اجازت نہیں ہوگی۔
ہوٹل ملازم نے بتایا کہ امریکی وفد کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار بھی ہوتے ہیں جو امریکی وفد کی سیکیورٹی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی وفد کو ایک ہی فلور پر کمرے الاٹ کیے گئے ہیں، جہاں کی سیکیورٹی بھی انہی کے پاس ہوگی۔














