فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی ہے اور انہیں آگاہ کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پاکستان کے مرکزی ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، جس پر ٹرمپ نے اس مشورے پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے قبل کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے، جہاں بندرگاہوں کی ناکہ بندی، سخت بیانات اور عسکری جھڑپوں نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان کی ثالثی کوششوں کے باوجود فریقین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو امن بات چیت میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کی خواہش ہے کہ 2 ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے قبل پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جائے، جس کے لیے اسلام آباد میں سکیورٹی کے وسیع انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا ’غیر معقول اور غیر حقیقی مؤقف‘ پر اصرار کر رہا ہے۔
ایک سینئر ایرانی ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی مذاکرات کے امکانات کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیتیں، خصوصاً میزائل پروگرام، کسی بھی بات چیت کا حصہ نہیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری
یاد رہے کہ اس وقت امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایران بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر وقتاً فوقتاً پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھنے میں آئی، جہاں تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ رہا۔ تاجروں کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی ٹوٹ سکتی ہے اور خلیجی راستوں میں تجارتی سرگرمیاں مزید محدود ہو سکتی ہیں۔
دوسری طرف امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کے روز ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن ناکارہ ہو گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ویڈیو میں اہلکاروں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جہاز پر اترتے دکھایا گیا۔
ایرانی فوج نے اس کارروائی کو ’مسلح قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاز چین سے آ رہا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس ’کھلی جارحیت‘ کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم جہاز پر عملے کے اہلِ خانہ کی موجودگی کے باعث احتیاط برتی گئی۔
چین نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے جنگ بندی معاہدے کی ذمہ دارانہ پاسداری کی اپیل کی ہے۔
ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار
ادھر ایران نے موجودہ حالات میں نئی امن بات چیت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناکہ بندی، دھمکی آمیز بیانات اور واشنگٹن کے بدلتے مؤقف مذاکرات میں رکاوٹ ہیں۔
ایران کے نائب صدر اوّل محمد رضا عارف نے کہا کہ ایک طرف ایران کی تیل برآمدات کو محدود کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب دوسروں کے لیے مکمل سکیورٹی کی توقع رکھی جا رہی ہے، جو قابل قبول نہیں۔ ان کے بقول یا تو سب کے لیے آزاد تیل منڈی ہوگی یا پھر سب کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ایرانی کارگو جہاز پر امریکی کارروائی، سینٹکام نے قبضے اور حملے کی ویڈیو جاری کر دی
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو اس کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایران نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں وہ خلیجی عرب ممالک میں امریکی اڈوں کے قریب توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
نائب صدر جی ڈی وینس کے بغیر امریکی وفد کی اسلام آباد متوقع آمد
ممکنہ مذاکرات کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی نمائندے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے، تاہم بعد ازاں اطلاعات سامنے آئیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس اس وفد کا حصہ نہیں ہوں گے۔
پاکستان، جو اس عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام کے مطابق اسلام آباد میں تقریباً 20 ہزار پولیس، نیم فوجی اور فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ایران کی جانب سے مذاکرات کی قیادت کرنے والے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے اہم معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔
یورپی اتحادی بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ جلد بازی میں ایک محدود نوعیت کا معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے بعد مزید پیچیدہ مذاکرات درکار ہوں گے۔
8 ہفتوں سے جاری اس جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی نئی تجاویز ایران کو موصول، مذاکرات میں پیشرفت مگر حتمی معاہدہ تاحال دور ہے، باقر قالیباف
اس دوران ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایران نے بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
مزید برآں عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل پیداوار میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔














