بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اقلیتی رہنما نازیہ الٰہی خان کی جانب سے ممبئی کے علاقے اندھیری میں واقع لینس کارٹ کے ایک آؤٹ لیٹ کے دورے اور وہاں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے جس نے کارپوریٹ اداروں میں مذہبی آزادی اور پیشہ ورانہ ماحول سے متعلق اہم سوالات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں نازیہ الٰہی خان کو اسٹور کے عملے بالخصوص مینیجر محسن خان کے ساتھ سخت لہجے میں گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے محسن خان سے کہا کہ ’یہاں شریعت لاگو کروانی ہے کیا؟‘ جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
लेन्सकार्ट के तो विधिवत घोड़े लगे चले जा रहे….अब नाजिया खान ने खखेड़ दिया😝😜 pic.twitter.com/rsTj5RRNjI
— 𝗔𝘀𝗵𝘂𝘁𝗼𝘀𝗵 𝗕𝗿𝗶𝗷𝘄𝗮𝘀𝗶 (@VedicAshutosh) April 19, 2026
نازیہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی ہندو ملازمین کو تلک، کلاوا اور دیگر مذہبی علامات کے استعمال سے روکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک مسلم مینیجر کی تعیناتی دانستہ طور پر ہندو مذہبی روایات کو محدود کرنے کے لیے کی گئی۔ جبکہ مسلمان مینجر کا کہنا تھا یہاں ہر کوئی اپنے مذہب کو فالو کرنے میں آزاد ہے۔
ویڈیوز میں انہیں اسٹور کے اندر بعض ملازمین کی پیشانی پر تلک لگاتے اور مذہبی نعرے لگاتے بھی دیکھا گیا جبکہ چند ملازمین بظاہر غیر آرام دہ محسوس کرتے نظر آئے۔ اس طرزِ عمل پر سوشل میڈیا صارفین نازیہ الہیٰ پر تنقید کرتے نظر آئے اور اسے پیشہ ورانہ ماحول میں مداخلت اور دباؤ ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔
ایک بھارتی صارف نے کہا کہ یہ کھلی ہراسانی ہے۔ لینس کارٹ کو فوری طور پر شکایت درج کرانی چاہیے اور اپنے ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
This is pure harassment. Lenskart should file a complaint and protect their employees. https://t.co/lRcybDQSyb
— Kaushik Raj (@kaushikrj6) April 20, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ بھارت میں غریب طبقے کے ملازمین کو ہراساں کرنا اور دھمکانا آسان ہوتا ہے، خاص طور پر اگر وہ مسلمان ہوں۔
She won’t barge into the office of Lenskart owner who made that policy because he’s a Hindu millionaire who will drag her ass to jail and then to court where she’ll be made to apologise.
It’s easy to harass and intimidate working class employees, especially if they’re Muslims. https://t.co/UoA7K0n776
— Catty (@CatWomaniya) April 20, 2026
پاکستانی صارفین اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد قائداعظم کا شکریہ ادا کرتے نظر آئے جنہوں نے مسلمانوں کے لیے الگ ملک پاکستان بنایا۔ محسن علی نامی صارف نے کہا کہ جب بھی میں بھارت سے اس طرح کی ویڈیوز دیکھتا ہوں، تو میں کہتا ہوں شکریہ اللہ، شکریہ جناح
Every time I see videos like this from India, I say,
Thank you, Allah. Thank you, Jinnah 🇵🇰
— Mohsin Ali (@Mohsin_o2) April 20, 2026














