سمندری سیکیورٹی اور رسک مینجمنٹ فرم مارِسکس نے خبردار کیا ہے کہ بعض نامعلوم عناصر کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو جعلی پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت کے بدلے کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ پیغامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں سمندری صورتحال غیر یقینی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ جہاز جو اس اہم آبی گزرگاہ کے مغربی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں، انہیں مبینہ طور پر ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ ایرانی حکام کے نام پر ٹرانزٹ کلیئرنس کے لیے بٹ کوائن یا ٹیتر جیسی کرپٹو کرنسی میں فیس ادا کی جائے۔
یہ بھی پڑھیے: آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکی ڈالر پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
مارِسکس نے واضح کیا ہے کہ یہ پیغامات مکمل طور پر دھوکہ دہی پر مبنی ہیں اور ایرانی حکام کی جانب سے جاری نہیں کیے گئے۔ تہران کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں ملاحوں کے ساتھ سینکڑوں بحری جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس دوران بعض جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی تاہم انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ کو واپس لوٹنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے: آبنائے ہرمز میں ٹریفک محدود، 12 گھنٹوں میں صرف 3 جہازوں کی آمد و رفت
مارِسکس نے مزید کہا کہ ایک واقعے میں ایسے جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ممکنہ طور پر اسی جعلی پیغام پر عمل کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جعلسازی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب خطے میں سمندری راستوں کی سکیورٹی انتہائی حساس ہو چکی ہے اور عالمی تجارت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔














