واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نئے پریمیم سبسکرپشن ماڈل ’واٹس ایپ پلس‘ کی آزمائش شروع کر دی ہے جس کے تحت صارفین کو اپنی ایپ کے ظاہری انداز (کاسمیٹک فیچرز) کو مزید ذاتی بنانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ نیا سبسکرپشن ماڈل انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ کے پریمیم ورژنز کی طرز پر متعارف کرایا جا رہا ہے تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق اس میں زیادہ تر سہولیات صرف ظاہری نوعیت کی ہیں اور نمایاں حد تک اضافی فنکشنل فیچرز شامل نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وٹس ایپ نے ایموجی ری ایکشنز انٹر فیس میں دلچسپ تبدیلیاں کردیں
کمپنی کے ترجمان نے ٹیکنالوجی ویب سائٹ TechCrunch کو بتایا کہ یہ سبسکرپشن ان صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے جو اپنے واٹس ایپ تجربے کو مزید منظم اور ذاتی بنانا چاہتے ہیں۔ پریمیم فیچرز میں چیٹس کو زیادہ تعداد میں پن کرنے کی سہولت، کسٹم لسٹس، نئی چیٹ تھیمز اور دیگر پرسنلائزیشن آپشنز شامل ہیں۔
ٹیک رپورٹس کے مطابق، بشمول WABetaInfo، اس سبسکرپشن کی متوقع قیمت یورپ میں 2.49 یورو ماہانہ جبکہ پاکستان میں تقریباً 229 روپے رکھی جا سکتی ہے۔ صارفین کو ایک ماہ کا مفت ٹرائل دینے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وٹس ایپ وائس میسج ٹرانسکرپٹ فیچر لانچ، پاکستانی صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟
اہم فیچرز میں چیٹس کو پن کرنے کی حد میں نمایاں اضافہ شامل ہے، جہاں مفت ورژن میں صرف تین چیٹس پن کی جا سکتی ہیں، وہیں پریمیم صارفین 20 چیٹس تک پن کر سکیں گے۔ مزید برآں صارفین کو چیٹ لسٹس کے لیے مخصوص تھیمز، رنگ ٹونز اور نوٹیفکیشن ساؤنڈز منتخب کرنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔
اس سبسکرپشن میں اسٹیٹس فیچر سے اشتہارات ختم کرنے جیسی کوئی سہولت شامل نہیں، حالانکہ کمپنی گزشتہ برس اس فیچر میں اشتہارات متعارف کرا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وٹس ایپ کا نیا فیچر، وٹس ایپ اسٹیٹس 24 گھنٹے کے بعد 30 دن کے لیے آرکائیو ہو جائے گا
یاد رہے کہ واٹس ایپ ماضی میں بعض خطوں میں ایک ڈالر سالانہ سبسکرپشن فیس وصول کرتا تھا، تاہم Meta کی جانب سے 2016 میں اس فیس کو ختم کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کمپنی نے اپنی آمدنی کا بڑا ذریعہ کاروباری پیغامات اور ’کلک ٹو واٹس ایپ‘ اشتہارات کو بنایا۔
میٹا کے مطابق 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں اس کی ایپس کی مجموعی آمدنی میں 54 فیصد اضافہ ہوا جو 801 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جس میں واٹس ایپ کی پیڈ میسجنگ کا نمایاں کردار ہے۔ اسی عرصے میں واٹس ایپ کی سالانہ بنیاد پر آمدنی 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ نے بینکنگ موبائل ایپ چارجز کا نوٹس لے لیا
فی الحال ’واٹس ایپ پلس‘ محدود پیمانے پر آزمائشی مرحلے میں ہے اور دنیا بھر کے تین ارب سے زائد صارفین میں سے صرف چند کو ہی اس تک رسائی حاصل ہوگی، لہٰذا قلیل مدت میں اس کے مالی اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔














