کھیل کے میدان میں سیاست، کے پی اسمبلی اجلاس پر کتنا خرچ آئے گا؟

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ گراؤنڈ میں قالیں بچھا کر کرسیاں لگا دی گئی ہیں۔

ترجمان خیبر پختونخوا حکومت شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مردان جلسے میں اجلاس کھلے میدان میں کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اسپیکر بابر سلیم سواتی نے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں اجلاس طلب کیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں اجلاس کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ کرکٹ گراؤنڈ میں کرسیاں لگا کر اراکین کے لیے بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔ اسمبلی حکام کے مطابق اسمبلی ہال سے اراکین کی کرسیاں اسٹیڈیم منتقل کی گئی ہیں، جبکہ منگل کے روز اسمبلی اسٹاف اور دیگر محکموں کے اہلکار انتظامات میں مصروف رہے۔

اسمبلی حکام کے مطابق کھلے میدان میں اجلاس میں شرکت کے لیے اسپیکر نے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کو بھی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ تمام انتظامی افسران کو بھی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسپیکر نے پولیس کو سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اجلاس آج (بدھ) کے روز 3 بجے شروع ہوگا۔

اجلاس پر کتنا خرچ آئے گا؟

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن اراکین نے اسمبلی کے باہر اجلاس کے انعقاد کو قومی خزانے کا ضیاع قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے غیر ضروری سیاست پر توجہ دے رہی ہے، جس سے صوبے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اپوزیشن اراکین کے مطابق اسمبلی کے اس اجلاس پر قریباً 20 لاکھ روپے سے زائد کا خرچہ آئے گا ۔

اسمبلی سے وابستہ ایونٹ منجمنٹ کے ذمہ دار کمپنی کے ذمہ دار کے مطابق اس کے لیے پیشگی طور پر کوئی لاگت نہیں دی ہے تاہم اجلاس کے اختتام پر بل جمع کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گراؤنڈ میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، کرسیوں کے ساتھ قالین بھی بچھا دی گئی ہے جبکہ خصوصی طور اسپیکر کے لیے اسٹیج کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گراؤنڈ میں بڑی اسکرین بنی لگا دی گئی تاکہ لوگوں کو اجلاس دیکھنے میں آسانی ہو۔ انھوں نے بتایا کہ اس اجلاس کا خرچ 15 سے 20 لاکھ تک آئے گا۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی: پی ٹی آئی کی لیاقت باغ میں جلسے کی درخواست مسترد

خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعت اے این پی کے رکن نثار باز کے مطابق پی ٹی آئی عوامی مسائل پر توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا: ’اجلاس عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں کرنے سے کیا لوگوں کے مسائل ختم ہوں گے؟‘

انہوں نے کہا کہ صوبے کو امن و امان کا مسئلہ درپیش ہے، ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔ ایسے میں اجلاس کھلے میدان میں کرنے سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔

جے یو آئی کے ایک رکن نے کہا کہ اجلاس کرکٹ اسٹیڈیم میں کرنے کا مقصد ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کہنا ہے وہ اسمبلی عمارت میں بھی کہا جا سکتا ہے، اور جو دیکھنا چاہتے ہیں وہ وہاں بھی آ سکتے ہیں، لیکن اضافی خرچ کا کیا جواز ہے۔

اپوزیشن رکن خدیجہ بی بی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک اجلاس پر 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، جو عوام کا پیسہ ہے، لیکن حکومت اجلاس کو سنجیدہ ہی نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کے میدان میں اجلاس سے قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا۔ ’جب بھی اجلاس ہوتا ہے، پی ٹی آئی اراکین آتے ہی نہیں، تو وہاں کیا حاصل ہوگا؟‘

انہوں نے اجلاس کو وقت اور قومی خزانے کا ضیاع قرار دیا۔

دوسری جانب ترجمان کے پی حکومت شفیع جان کا کہنا ہے کہ عوام کو براہِ راست اجلاس دیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے عوام کو بھی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ ان کے نمائندے ان کے لیے کیا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار اجلاس باہر کھلی جگہ پر ہو رہا ہے۔

دوسری جانب کھیل کے میدان میں اجلاس پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کرکٹ اسٹیڈیم میں اجلاس کے انعقاد پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ پشاور کے اسپورٹس جرنلسٹ عمران یوسفزئی نے کھیل کے میدان میں اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا اور پشاور کے شائقین کرکٹ کے لیے بری خبر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اس کے بعد اگر کسی نے پی ایس ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ پشاور کو نہ ملنے کا شکوہ کیا تو کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہوگا کہ کرکٹ کے میدان میں اسمبلی کا اجلاس کس نے منعقد کیا، جو یہ نئی روایت قائم کی جا رہی ہے؟

خیبر پختونخوا میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے کرکٹ کے میدان ویران ہیں اور قومی و بین الاقوامی میچز نہ ہونے سے شائقینِ کرکٹ بھی مایوس ہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کھیلوں کے میدان آباد کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیاں شروع کر رہی ہے۔

پشاور کے ارباب نیاز، جس کا نام تبدیل کرکے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم رکھا گیا ہے، میں 1996 کے بعد کوئی بین الاقوامی میچ نہیں ہوا۔ آخری بین الاقوامی میچ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلا گیا تھا، جس کے بعد پشاور میں کرکٹ کے میچز نہیں ہو رہے۔

مزید پڑھیں: علیمہ خان نے 10 ہزار پی ٹی آئی کارکنان کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی کال دیدی

حکام کے مطابق 2018 میں ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم میں تعمیراتی کام کا آغاز کیا گیا، جو 7 سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ جس کے بعد گزشتہ سال کام مکمل ہونے پر حکومت نے جلد کرکٹ میچز کرانے کا اعلان کیا۔

رواں سال پی ایس ایل میچز کے شیڈول میں پشاور کو بھی شامل کیا گیا تھا، لیکن خطے کی صورتحال کے باعث یہ میچز نہ ہو سکے۔

شائقینِ کرکٹ کے مطابق حکومت کرکٹ گراؤنڈ میں اسمبلی اجلاس کرنے کے بجائے کرکٹ کو بحال کرے تاکہ انہیں میچز دیکھنے کا موقع مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی تجاوزات کیس، وفاقی آئینی عدالت نے سعید غنی کے خلاف توہین عدالت درخواست سمیت سماعت مقرر کر دی

پیداواری صلاحیت کے باوجود پاکستان میں بجلی کی شدید کمی برقرار

دن میں زیادہ اور بار بار سونا صحت کے لیے نقصان دہ، موت کی جانب پیشقدمی قرار

پی ایس ایل میچ کے دوران عامر سہیل کے کراچی سے متعلق ریمارکس پر ہنگامہ، سوشل میڈیا پر سخت تنقید

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر خدشات

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار