ڈھاکہ یونیورسٹی میں شاعر مشرق علامہ اقبال کو شاندار خراج تحسین

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یونیورسٹی آف ڈھاکہ کے تاریخی بوہڑ کے درخت کے سائے میں منعقدہ تقریب کے شرکا نے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 88ویں برسی کے موقع پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔

تذکرہ اقبالیات مرکز کے زیرِ اہتمام ’بیداری نوِ افکار اور شام یاد اقبال و مقابلہ مطالعہ اقبالیات‘ کے موضوع پر اس تقریب میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب میں مقررین نے واضح کیا کہ اقبال صرف پاکستان کے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے شاعر ہیں، جن کے افکار نے محکوم قوموں کو شعور عطا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی سفارتخانے کا ’یوم اقبال‘ پر شاعر مشرق کو زبردست خراج تحسین

ایرانی مقرر شہاب الدین ماشایخی نے کہا کہ فکرِ اقبال نے ایرانی نوجوانوں کو استعماری قوتوں کے خلاف مزاحمت کا حوصلہ دیا.

سماجی رہنما عارف سہیل نے کہا کہ حالیہ عوامی مزاحمت اور بھارتی اجارہ داری کے خلاف بنگلہ دیشی نوجوانوں کی جدوجہد بھی فکرِ اقبال سے حاصل شدہ شعور کا مظہر ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر کوثر ابوالعلائی نے بتایا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں علامہ اقبال کی کتاب ’دی ری کنسٹریکشن آف تھاٹس اِن اسلام‘ اور فلسفہ خودی پر باقاعدہ تحقیقی کام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ آف پاکستان میں علامہ اقبالؒ کے یومِ پیدائش پر قراردادِ خراجِ عقیدت منظور

پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی نے زور دیا کہ آج کی بقا مغربی تہذیب کے بجائے فکرِ اقبال کی روشنی میں اسلامی تعلیمات اپنانے میں ہے۔

تقریب کے آغاز پر محمد مہیرالزمان کی صدارت میں ایک علمی نشست میں سابق چیئرمین شعبہ فلسفہ، ڈھاکہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہ کوثر مصطفیٰ ابوالعلائی، ایرانی عالم و شاعر حجۃ الاسلام والمسلمین شہاب الدین ماشایخی راد، اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے اورشعبۂ اردو سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی نے شرکت کی۔

تقریب کی خاص پیشکش ’فکرِ اقبال‘ نامی کتاب پر مبنی مطالعہ اقبالیات کا مقابلہ، لائیو کوئز اور محفلِ قوالی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: صدر اور وزیراعظم کا علامہ اقبال کو خراجِ عقیدت، فکرِ اقبال کو عملی زندگی کا حصہ بنانے پر زور

مطالعہ اقبالیات میں اول، دوم اور سوم آنے والے امیدواروں کو بالترتیب 4000، 3000 اور 2000 ٹکا نقد انعام دیا گیا۔

تقریب کے اختتامی حصے میں پرائمری اسکول کی طالبات نے علامہ اقبال کی مشہور نظم ’دعا‘ ترنم کے ساتھ پیش کی۔

محفل کا اختتام ڈھاکہ یونیورسٹی کے معروف ’سلسلہ بینڈ‘ کی روح پرور قوالی سے ہوا، جنہوں نے ’خودی کا سر نہاں‘ اور ’ہر لحظہ ہے مومن‘ جیسے کلام پیش کرکے حاضرین کے لہو کو گرمایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا