جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی توقعات کا احترام کرتے ہوئے آئینی اصلاحاتی کونسل سے حلف لے اور جولائی چارٹر کو قانونی حیثیت دے کر اس پر عملدرآمد یقینی بنائے۔
جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام جمعہ کے روز منعقدہ وارڈ پریذیڈنٹس کانفرنس 2026 میں مختلف وارڈ سطح کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پرور نے کہا کہ اسلامی اقدار کے قیام کی جدوجہد کو زندگی کی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی بی جے پی رہنما کے متنازع بیان پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی شدید مذمت
انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ ذاتی، خاندانی اور سماجی زندگی میں اسلامی اصولوں کو نافذ کریں تاکہ تنظیم کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نظریاتی پختگی، قربانی اور تنظیمی نظم و ضبط کسی بھی تحریک کو مضبوط بنانے کے بنیادی عناصر ہیں۔
موجودہ سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے میاں غلام پروار نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی توقعات کا احترام کرتے ہوئے آئینی اصلاحاتی کونسل سے حلف لے۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عوامی لیگ رہنماؤں کی ضمانت اور دفاتر کھولنے پر تشویش کا اظہار
‘آئینی اصلاحاتی کونسل کا اجلاس بلائے اور جولائی چارٹر کو قانونی حیثیت دے کر اس پر عملدرآمد یقینی بنائے۔’
انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی بحران کے حل کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس سلسلے میں مکالمے اور جمہوری عمل کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی حکومتی وزیر کی جانب سے ‘انقلاب زندہ باد’ پر تنقید کی مذمت
ان کے مطابق کالجوں اور جامعات میں منتخب نمائندوں پر حملے، ہراسانی اور جبر جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے متعلقہ عناصر سے اپیل کی کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہیں اور تعلیمی ماحول کو پُرامن بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔
کانفرنس کے خصوصی مہمان مرکزی مجلسِ عاملہ کے رکن محمد مبارک حسین کا کہنا تھا کہ وفاداری، قربانی، نظم و ضبط اور اہلیت مضبوط تنظیم کی بنیاد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ محض اچھی تقریر کافی نہیں بلکہ کارکنان کو عوام سے براہِ راست رابطہ بڑھانا ہوگا۔













