کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی لیڈرز پھر بول پڑے

پیر 27 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 5 رہنماؤں نے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے بجلی کے شعبے کے حقیقی مسائل حل کیے جائیں، کیونکہ غلط بیانی سے بحران ختم نہیں ہو سکتا۔

اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے جاری بیان میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید نے کہا کہ ملک میں 46 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود 19 ہزار میگاواٹ کی موجودہ طلب پوری نہیں کی جا رہی۔

یہ بھی پڑھیے: کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کی نماز عید کی ادائیگی کی اجازت کے لیے درخواست

انہوں نے کہا کہ اعلانیہ طور پر ڈھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ بتائی جا رہی ہے، مگر شہری علاقوں میں عوام 7 سے آٹھ 8 جبکہ دیہی علاقوں میں 12 سے 18 گھنٹے تک بجلی بندش برداشت کر رہے ہیں۔

رہنماؤں کے مطابق وزیر توانائی اویس لغاری نے عوام کو بتایا کہ بجلی کے بلوں میں اضافے سے بچانے کے لیے یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث ایل این جی سپلائی متاثر ہوئی، جو موجودہ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ ہے اور یہ معاملہ حکومتی کنٹرول سے باہر ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئلہ، شمسی، ہوا، پن بجلی اور جوہری توانائی کے ذرائع کو دیکھا جائے تو یہ بجلی گھر 6 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی فراہم نہیں کر رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خود وزیر توانائی نے تسلیم کیا ہے کہ جنوبی علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کا مسئلہ نہیں، جبکہ ملک میں اضافی بجلی موجود ہے، مگر ترسیلی نظام کی کمزوری کے باعث شمالی اور وسطی علاقوں تک نہیں پہنچائی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیے: کوٹ لکھپت جیل سے تحریک انصاف رہنماؤں کا اہم بیان اور مطالبہ

بیان میں کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے بجلی ڈویژن نے 2022 کے تیل بحران سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور 4 سال پہلے سامنے آنے والی ساختی کمزوریوں کو دور نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے نجی سرمایہ کاری سے 18 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی شامل کر کے گزشتہ 8 برسوں میں اربوں ڈالر کے ایندھن درآمدی اخراجات بچائے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو سراہنے کے بجائے نیٹ میٹرنگ پالیسی ختم ہونے کے خدشات میں رکھا جا رہا ہے۔ منصوبہ سازوں کو سمجھنا چاہیے کہ مستقبل قابلِ تجدید توانائی کا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp