واشنگٹن / لندن: برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا پیر سے اپنے 4 روزہ سرکاری دورے پر امریکا پہنچ رہے ہیں جو ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کو اندرونی اور عالمی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ چارلس کا دورہ امریکا: صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ دورہ ایک حالیہ سیکیورٹی واقعے کے صرف 2 دن بعد ہو رہا ہے جس میں واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلینیا ٹرمپ و دیگر اعلیٰ حکام کو ایک مشتبہ حملہ آور کے باعث فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق 31 سالہ مشتبہ شخص کول ٹوماس ایلن کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس پر باضابطہ فردِ جرم عائد کیے جانے کی توقع ہے۔
سیکیورٹی خدشات کے باوجود برطانوی شاہی دورہ منسوخ نہیں کیا گیا۔ بکنگھم پیلس نے تصدیق کی ہے کہ دورہ طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا، البتہ معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں یقین دہانی کرائی کہ شاہی مہمانوں کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی اور وائٹ ہاؤس کو محفوظ مقام قرار دیا۔
مزید پڑھیے: ملکہ الزبتھ کا عالیشان سفارتی اصول جس کے صدر ٹرمپ بھی معترف
دورے کے دوران شاہی جوڑے کا وائٹ ہاؤس میں باضابطہ استقبال کیا جائے گا جہاں فوجی اعزاز، ملاقاتیں اور ایک سرکاری ضیافت بھی شامل ہو گی۔
بادشاہ چارلس امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گے جو کسی برطانوی بادشاہ کا دوسرا ایسا خطاب ہو گا۔ اس سے قبل ملکہ الزبتھ دوم نے سنہ 1991 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
بعد ازاں شاہی وفد نیو یارک اور ورجینیا کا دورہ بھی کرے گا جہاں امریکی آزادی کے اعلامیے کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی جائے گی۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خاص طور پر ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کچھ کشیدہ ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے حالیہ واقعے پر اطمینان کا اظہار کیا کہ امریکی صدر اور ان کی اہلیہ محفوظ رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب سفارتی سطح پر تناؤ پایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: ملکہ الزبتھ دوم کی 100ویں سالگرہ: ایک عہد ساز حکمران کی لازوال میراث
بکنگھم پیلس کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، معاشی، سیکیورٹی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔














