ایران کی نئی پیشکش سے ٹرمپ ناخوش، جنگ کے خاتمے کی امیدیں مدھم پڑگئیں

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری 2 ماہ پر محیط جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں، جس کے باعث تنازع کے حل کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس جنگ نے نہ صرف توانائی کی عالمی رسد متاثر کی بلکہ مہنگائی میں اضافہ اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بنی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی تجویز میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور خلیجی بحری راستوں سے متعلق تنازعات کے حل تک ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت مؤخر رکھی جائے۔ تاہم امریکی مؤقف ہے کہ جوہری معاملہ مذاکرات کے آغاز ہی سے زیر بحث آنا چاہیے، اور اسی نکتے پر صدر ٹرمپ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے امریکا ایران مذاکرات: پاکستان کی سفارتکاری جاری، عالمی رہنماؤں کا آبی گزرگاہیں کھولنے پر زور، آگے کیا ہوگا؟

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا کہ امریکا میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا اور اپنی ’سرخ لکیروں‘ سے پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اب فروری سے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

یاد رہے کہ 2015 میں ایران اور امریکا سمیت دیگر ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا گیا، تاہم ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

حالیہ پیش رفت کے دوران امن کوششوں کو مزید دھچکا اس وقت لگا جب ایرانی وفد نے امریکا کے ساتھ  مذاکرات کی میز پر مزید بیٹھنے سے انکار کردیا، جس کے نتیجے میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر کو اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، عمان اور روس کے دورے کیے اور ماسکو میں صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کر کے حمایت حاصل کی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ

دونوں ممالک کے درمیان فاصلے برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں۔ ماہرین کے مطابق اصل تشویش بیانات نہیں بلکہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل ہے، جو اس وقت شدید متاثر ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی ناکہ بندی کے باعث ایرانی تیل سے لدے کم از کم 6 ٹینکرز کو واپس موڑ دیا گیا، جبکہ ایران نے اس اقدام کو ’کھلی سمندری ڈکیتی‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایرانی مذاکرات کار معاہدے کے لیے سنجیدہ، ڈیل نہ ہوئی تو آئندہ فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے، مارکو روبیو

اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے قبل روزانہ 125 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تاہم اب یہ تعداد انتہائی کم ہو کر محض چند رہ گئی ہے، اور حالیہ دنوں میں کوئی بھی جہاز عالمی منڈی کے لیے تیل لے کر نہیں گیا۔

ٹرمپ پر بڑھتا دباؤ

داخلی سطح پر گرتی مقبولیت کے باعث صدر ٹرمپ پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، اسی لیے مذاکرات کی بات کر رہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق مجوزہ منصوبہ مرحلہ وار مذاکرات پر مشتمل ہے، جس میں پہلے جنگ کا خاتمہ اور آئندہ ایسے اقدامات کی ضمانت شامل ہے کہ جنگ دوبارہ مسلط نہیں کی جائے گی، اس کے بعد بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے معاملات حل کیے جائیں گے، جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت بعد کے مرحلے میں کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

3ماہ کی گرمیوں کی تعطیلات کے خلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ نے فریقین سے جواب طلب کر لیا

چین نے مشرقِ وسطیٰ جنگ پر خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس

’ہر کام کے لیے شوہر سے اجازت لینی پڑتی ہے‘، ندا یاسر کا انکشاف

ایران امریکا معاہدے کی امید پھر روشن، آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزرنے لگے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا