بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فوری سماعت اور فیصلے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سزا معطلی کی درخواست کو میرٹ پر ترجیحی بنیادوں پر سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے، جبکہ سپرنٹنڈنٹ جیل اور الشفا اسپتال کے شعبہ چشم کے سربراہ کو مکمل میڈیکل ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کیا جائے۔
اس کے ساتھ بشریٰ بی بی کو فوری طور پر کسی بہتر اسپتال منتقل کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وکلا اور اہل خانہ کو بشریٰ بی بی تک بلا تعطل اور باقاعدہ رسائی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست کے مطابق جیل حکام نے اچانک غیر رسمی طور پر آگاہ کیا کہ ان کی آنکھ کا آپریشن کیا گیا ہے، جو الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال راولپنڈی میں ہوا، تاہم اس سے اہل خانہ اور وکلا کو بعد میں آگاہ کیا گیا۔
درخواست کے مطابق آپریشن سے قبل نہ اہل خانہ سے کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی رضامندی لی گئی۔
مزید کہا گیا کہ آپریشن کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا اور اس دوران وکلا اور اہل خانہ کو رسائی نہیں دی گئی۔ ملاقات کے وقت بشریٰ بی بی کی آنکھوں پر پٹیاں اور کالا چشمہ موجود تھا اور وہ شدید تکلیف میں نظر آئیں۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی بینائی شدید متاثر ہونے یا ضائع ہونے کا خطرہ ہے، جبکہ آپریشن کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر کے تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں طبی نگرانی، اٹینڈنٹ یا نرسنگ کی سہولت موجود نہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل حکام نے آپریشن سے متعلق کوئی نوٹس، تشخیص یا بعد از آپریشن ادویات کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا، جبکہ اسلام آباد کے ریڈ زون کی بندش کے باعث عدالتی کارروائی بھی متاثر ہوئی اور کیس میں تاخیر ہوئی۔














