آبنائے ہرمز میں زیر سمندر فائبر آپٹک کیبلز کی سیکیورٹی ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہے جہاں ایران نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا ہے کہ یہ کیبلز خطے کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک کمزور نکتہ ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ تنگ آبی گزرگاہ پہلے ہی عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم چوک پوائنٹ سمجھی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ڈیجیٹل دنیا کے لیے بھی نہایت اہم ہے جہاں متعدد سب میرین فائبر آپٹک کیبلز سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی ہیں۔ یہ کیبلز جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کو خلیجی ممالک کے ذریعے یورپ اور مصر سے جوڑتی ہیں۔
یہ کیبلز عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل کرتی ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی نقصان یا رکاوٹ کی صورت میں انٹرنیٹ سروس، مالی لین دین، ای کامرس اور کلاؤڈ سسٹمز شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نظام جدید ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس کا انحصار بھی انہی زیر سمندر کیبلز پر ہے۔
اہم کیبل نیٹ ورکس میں اے اے ای ون، فالکن اور گلف برج انٹرنیشنل شامل ہیں جو خطے کو ایشیا، افریقہ اور یورپ سے جوڑتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ زیادہ تر کیبل فالٹس حادثاتی طور پر ہوتے ہیں، جیسے جہازوں کے اینکر یا ماہی گیری، تاہم جنگی یا کشیدہ حالات میں غیر ارادی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جغرافیائی اور توانائی امور کے ماہرین کے مطابق طویل تنازع کے دوران سمندری نقل و حرکت بڑھنے سے کیبلز کو حادثاتی نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ایک ماضی کے واقعے میں بھی بحیرہ احمر میں ایک متاثرہ جہاز کے اینکر سے کیبلز کو نقصان پہنچا تھا۔
مرمت کی ضرورت درپیش ہونے پر کیا ہوگا؟
اگرچہ ان کیبلز کی مرمت ممکن ہے تاہم جنگی حالات میں اجازت ناموں، رسائی اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے مرمت کا عمل طویل اور مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ سیٹلائٹ سسٹمز موجود ہیں لیکن وہ سب میرین کیبلز کا متبادل نہیں بن سکتے کیونکہ ان کی گنجائش محدود اور لاگت زیادہ ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی،امریکا بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
اس لیے عالمی ڈیجیٹل نظام اب بھی بڑی حد تک انہی زیرِ سمندر کیبلز پر انحصار کرتا ہے۔
زیر سمندر کیبلز کو اگر کسی وجہ سے نقصان پہنچ جائے تو ان کی مرمت خود ایک بڑا اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ اگرچہ تکنیکی طور پر ان کیبلز کی مرمت ممکن ہے لیکن جنگی یا کشیدہ حالات میں یہ عمل مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مرمت کے لیے خصوصی جہازوں کی ضرورت ہوتی ہے اور کئی بار انشورنس کمپنیوں اور آپریٹرز کو سیکیورٹی خدشات کے باعث کام روکنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکی ڈالر پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
اس کے علاوہ متاثرہ سمندری علاقوں تک رسائی کے لیے اجازت نامے حاصل کرنا بھی ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات ان اجازت ناموں اور سیکیورٹی کلیئرنس میں تاخیر کی وجہ سے مرمت کا عمل ہفتوں یا مہینوں تک تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ یا کشیدگی کے بعد سمندری راستوں کی دوبارہ سروے بھی ضروری ہوتی ہے تاکہ محفوظ کیبل روٹس کی نشاندہی کی جا سکے اور مستقبل کے خطرات سے بچا جا سکے۔
سب میرین کیبل کو نقصان پہنچنے پر پاکستان میں کیا اثر پڑے گا؟
اگر اس علاقے میں کوئی سب میرین کیبل ڈیمیج ہو جائے تو اس کا اثر پاکستان سمیت پورے خطے کے انٹرنیٹ ٹریفک پر پڑ سکتا ہے۔ اس صورت میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہو سکتی ہے، ویب سائٹس اور کلاؤڈ سروسز تک رسائی میں تاخیر آ سکتی ہے: اور بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تاہم پاکستان کا انٹرنیٹ صرف ایک ہی راستے پر انحصار نہیں کرتا بلکہ مختلف سب میرین کیبلز اور متبادل لنکس کے ذریعے چلتا ہے۔
مزید پڑھیں : مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں مندی، تیل اور اسٹاک قیمتیں دباؤ کا شکار
اس لیے اگر کسی ایک روٹ میں مسئلہ پیدا ہو بھی جائے تو ٹریفک دوسرے راستوں پر منتقل ہو جاتی ہے جس کے باعث عام طور پر مکمل انٹرنیٹ بند نہیں ہوتا بلکہ زیادہ سے زیادہ سلو اسپیڈ یا عارضی خلل محسوس ہوتا ہے۔













