پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے ہیں، چند اہم پارٹی رہنماؤں اسفندیار کاکڑ، محمد اشرف ناصر، وصیل خان کاکڑ اور روبینہ کاکڑ نے ایک پریس کانفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے کچلاک میں ایک جرگے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔
کوئٹہ میں ان رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور علاج معالجے کے لیے آئندہ 10 روز میں کچلاک میں ایک جرگے میں احتجاجی تحریک کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ فارم 47 کی حکومت نے عمران خان کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنا کر انہیں قید میں رکھا ہوا ہے اور پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت ان کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا دی گئی
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں نے بھی پارٹی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ ان کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اس وقت عملی طور پر مفلوج ہوچکی ہے اور 4 دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے، جبکہ پارلیمنٹرینز اور عہدیداران نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔
رہنماؤں کے مطابق، عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے اور ان کی آنکھ کا بڑا حصہ متاثر ہوچکا ہے، جس کے باوجود کوئی مؤثر حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے موجودہ حالات پر بحث کرائی جائے، پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ
دوسری جانب، اس پیش رفت پر پی ٹی آئی بلوچستان نے مذکورہ پریس کانفرنس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے متعلقہ رہنماؤں کو پارٹی سے فارغ کرنے کا اعلان کردیا ہے، ایک بیان میں کارکنوں کو ایسے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جنہیں پارٹی نے ’مفاد پرست ٹولہ‘ قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی بلوچستان میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پارٹی تنظیمی طور پر گہرے بحران کا شکار ہے، مرکزی اور صوبائی قیادت پر بار بار عدم اعتماد کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ فیصلہ سازی کا نظام کمزور ہے۔
جب مقامی رہنما خود کو نظرانداز محسوس کریں تو وہ جرگہ طلب کرنے جیسے متبادل پلیٹ فارم بنانے لگتے ہیں، اسی طرح عمران خان کی رہائی جیسے اہم معاملے پر کوئی متفقہ اور مؤثر حکمت عملی سامنے نہ آنا پارٹی کے اندر بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: بلدیاتی انتخابات کے فائنل راؤنڈ میں پی ٹی آئی وائٹ واش، باپ ٹاپ پر
تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس خلا کو مختلف گروہ اپنے اپنے طریقے سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے تقسیم مزید بڑھتی ہے۔
سیاسی پنڈتوں کے مطابق 4 دھڑوں میں تقسیم ہونے کا دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی اندرونی اتحاد کھو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں ہر گروہ دوسرے کو کمزور کرنے میں لگ جاتا ہے بجائے اس کے کہ مشترکہ مقصد پر کام کرے۔
بلوچستان جیسے حساس اور سیاسی طور پر پیچیدہ صوبے میں مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہر سیاسی جماعت کے لیے ناگزیر ہوتا ہے لیکن مسلسل اختلافات اور قیادت کی تبدیلیوں نے پارٹی کو صوبائی سطح پر جڑیں مضبوط نہیں کرنے دیں۔













