عمران خان کی رہائی کے لیے جرگے کا اعلان، پی ٹی آئی بلوچستان اندرونی اختلافات کا شکار

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے ہیں، چند اہم پارٹی رہنماؤں اسفندیار کاکڑ، محمد اشرف ناصر، وصیل خان کاکڑ اور روبینہ کاکڑ نے ایک پریس کانفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے کچلاک میں ایک جرگے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

کوئٹہ میں ان رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور علاج معالجے کے لیے آئندہ 10 روز میں کچلاک میں ایک جرگے میں احتجاجی تحریک کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ فارم 47 کی حکومت نے عمران خان کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنا کر انہیں قید میں رکھا ہوا ہے اور پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت ان کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا دی گئی

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں نے بھی پارٹی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ ان کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اس وقت عملی طور پر مفلوج ہوچکی ہے اور 4 دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے، جبکہ پارلیمنٹرینز اور عہدیداران نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔

رہنماؤں کے مطابق، عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے اور ان کی آنکھ کا بڑا حصہ متاثر ہوچکا ہے، جس کے باوجود کوئی مؤثر حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے موجودہ حالات پر بحث کرائی جائے، پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ

دوسری جانب، اس پیش رفت پر پی ٹی آئی بلوچستان نے مذکورہ پریس کانفرنس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے متعلقہ رہنماؤں کو پارٹی سے فارغ کرنے کا اعلان کردیا ہے، ایک بیان میں کارکنوں کو ایسے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جنہیں پارٹی نے ’مفاد پرست ٹولہ‘ قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی بلوچستان میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پارٹی تنظیمی طور پر گہرے بحران کا شکار ہے، مرکزی اور صوبائی قیادت پر بار بار عدم اعتماد کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ فیصلہ سازی کا نظام کمزور ہے۔

جب مقامی رہنما خود کو نظرانداز محسوس کریں تو وہ جرگہ طلب کرنے جیسے متبادل پلیٹ فارم بنانے لگتے ہیں، اسی طرح عمران خان کی رہائی جیسے اہم معاملے پر کوئی متفقہ اور مؤثر حکمت عملی سامنے نہ آنا پارٹی کے اندر بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: بلدیاتی انتخابات کے فائنل راؤنڈ میں پی ٹی آئی وائٹ واش، باپ ٹاپ پر

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس خلا کو مختلف گروہ اپنے اپنے طریقے سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے تقسیم مزید بڑھتی ہے۔

سیاسی پنڈتوں کے مطابق 4 دھڑوں میں تقسیم ہونے کا دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی اندرونی اتحاد کھو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں ہر گروہ دوسرے کو کمزور کرنے میں لگ جاتا ہے بجائے اس کے کہ مشترکہ مقصد پر کام کرے۔

بلوچستان جیسے حساس اور سیاسی طور پر پیچیدہ صوبے میں مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہر سیاسی جماعت کے لیے ناگزیر ہوتا ہے لیکن مسلسل اختلافات اور قیادت کی تبدیلیوں نے پارٹی کو صوبائی سطح پر جڑیں مضبوط نہیں کرنے دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

دنیا کی 2 سب سے بڑی معیشتیں چین اور امریکا مقابلہ نہیں شراکت داری کو ترجیح دیں، چینی صدر شی جن پنگ

ورلڈ کلائمیٹ ڈے : سندھ طاس معاہدے کی غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کے لیے خطرات بڑھا دیے

ایس سی او اجلاس : روس کا افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور منشیات کی بڑھتی پیداوار پر اظہار تشویش

’سابق شوہر نے کوکین نیٹ ورک کا حصہ بنایا‘، کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے راز کھول دیے

ویڈیو

انمول پنکی کے لیے تمغہ؟ بڑے انکشافات، اہم سینیٹر کود پڑے، 27ویں آئینی ترمیم کی بازگشت، ڈونڈ ٹرمپ کا دورہ چین

پنجاب کابینہ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے ایم پی اے رانا منان خان کو 50 لاکھ روپے سے زائد رقم دینے کی منظوری، معاملہ کیا ہے؟

ایوانِ صدر میں تقریب، بہادری اور قومی خدمات پر مسلح افواج کے افسران و جوانوں کو اعزازات سے نوازا گیا

کالم / تجزیہ

کیا آپ نے چین کے دورے پر موجود ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد پر غور کیا ہے؟

سعودی عرب کی سوچ

چپکے چپکے دل میں اترتا حسرتؔ