اسلامی تعلیمات میں ’خوارج‘ ایک ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جو مسلمان حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور ان کی تکفیر کرے۔ علما کے مطابق خوارج کی پہچان کے لیے چند بنیادی علامات احادیث میں بیان کی گئی ہیں، جنہیں سمجھنا ازحد ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: خاران میں بھارتی حمایت یافتہ خارجیوں کے حملے ناکام، 12 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
خوارج کو پہچاننا ہے تو یہ کچھ بنیادی علامات ذہن میں رکھیں جو ہمیں خود نبی کریم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلائی ہیں:
01: زیادہ تر جنگجو کم عمر لڑکے ہوں گے۔
02: مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اور کبھی کبھی تو ان سے معاہدہ بھی کرلیں گے۔
03: کم عقل اور کم علم ہوں گے۔
04: لمبی لمبی داڑھیاں ہوں گی اور اونچی اونچی شلواریں باندھیں گے۔ بڑے نمازی اور روزہ دار بھی ہوں گے۔ عبادات اور دین میں بہت شدت پسند ہوں گے۔ قرآن کی تلاوت بھی بہت عمدگی سے کریں گے۔

یعنی آپ ان کا ظاہری حلیہ دیکھ کر بول اٹھیں گے کہ یہ اگر دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ لیکن ان کی اصل علامت یہی ہے کہ ایمان اور قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار میں سے نکل جاتا ہے۔
05: قرآن پاک کی آیات کو مسلمانوں کے خلاف فٹ کریں گے۔
06: یہ اکثر اس وقت سامنے آئیں گے جب قوم آپسی جھگڑوں میں الجھی ہوئی ہوگی۔
07: قرآن کو اپنے حق میں دلیل بنایں گے حالانکہ قرآن ان کے خلاف دلیل ہوگا۔
08: بظاہر بڑی اچھی اچھی باتیں اور وعظ و نصیحت کریں گے۔
09: ظاہری حلیے کے برعکس کردار کے بہت ہی برے ہوں گے۔
10: ناحق خون بہائیں گے اور اقلیتوں کے قتلِ عام میں ملوث ہوں گے۔
مزید پڑھیں: بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر خارجیوں کا حملہ، 7 افراد جاں بحق
خوارج کی مذکورہ بالا نشانیاں صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت، حدیث کی بہت سی معتبر کتابوں میں موجود ہیں اور ہمیں بیدار کر رہی ہیں۔
خوارج کی نشانیاں آقائے کائنات ﷺ نے قریباً 15 سو برس قبل اسی لیے بتلا دی تھیں کہ آپ کو نشانہ لگانے میں کوئی تردد نہ ہو۔ کیونکہ یہ كِلَابُ النَّارِ یعنی جہنم کے کتے ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے اور ایمانی سینوں والے مجاہد انہیں چُن چُن کر مارتے رہیں گے۔














