سائبر فراڈ پر کریک ڈاؤن کے دوران کمبوڈیا میں گرفتار 54 پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے کمبوڈیا میں سائبر فراڈ کے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیے گئے 54 پاکستانی شہریوں کی واپسی ممکن بنا لی ہے۔ یہ افراد آن لائن اسکام کمپاؤنڈ پر چھاپے کے بعد حراست میں لیے گئے تھے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کے سفارتخانے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جس نے کمبوڈین حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا اور زیر حراست شہریوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دی۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: کومیلا قتل کیس میں 5 ملزمان گرفتار، سائبر کرائم نیٹ ورک بھی بے نقاب

کمبوڈیا کے شہر سیئمریپ میں ہونے والی اس کارروائی میں ایسے مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر منظم آن لائن فراڈ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان مراکز میں غیر ملکی شہریوں کو ملازمت کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لایا جاتا ہے اور بعض اوقات انہیں دھوکے یا دباؤ کے ذریعے آن لائن دھوکہ دہی میں شامل کیا جاتا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق کمبوڈین حکومت نے خیرسگالی کے طور پر فیصلہ کیا ہے کہ گرفتار 54 پاکستانی شہریوں کو کسی قانونی کارروائی کے بغیر واپس بھیجا جائے گا۔ یہ فیصلہ حال ہی میں نافذ ہونے والے ‘آن لائن اسکیمز کے خلاف قانون’ کے تحت ممکن ہوا ہے، جس میں سخت سزائیں اور جرمانے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں فوری جنگ بندی پر اتفاق

سفارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا سفارتخانہ مسلسل ان افراد سے رابطے میں ہے اور ان کی وطن واپسی کے لیے فلائٹ انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد جلد پاکستان روانہ کر دیے جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق کمبوڈیا میں اس نوعیت کے نیٹ ورکس کے خلاف حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ 200 سے زائد پاکستانی شہری مختلف کیسز میں وہاں موجود ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp