علی ڈار کی لاہور سے الیکشن لڑنے کی خواہش نے نواز لیگ کو تقسیم کر دیا؟

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ ن  میں نئی نسل کی قیادت منتقلی کے دوران گروپ بندی اور شریف خاندان کے اختلافات کی خبروں نے ایک بار پھر پارٹی کے اندرونی معاملات کو اجاگر کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مشیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار لاہور یا پنجاب کے کسی حلقے سے الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں۔

تاہم پارٹی کے سینیئر ذرائع کے مطابق یہ معاملہ مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف کے درمیان ایک نئی کشمکش کا باعث بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے وزیر اعلیٰ بننے پر بڑے بھائی حسن اور حسین نواز منظر عام پر کیوں نہ آئے؟

مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے طویل عرصے سے مسلم لیگ ن پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان سنگین اختلافات ہیں، تاہم دونوں بھائیوں نے ہمیشہ ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ طور پر پارٹی معاملات سنبھالے۔

تاہم اب قیادت بڑی حد تک نئی نسل کی طرف منتقل ہو رہی ہے، مریم نواز فی الحال پارٹی کی چیف آرگنائزر اور سینیئر نائب صدر ہیں، جبکہ حمزہ شہباز شریف مرکزی نائب صدر ہیں، پارٹی میں نچلی سطح پر 2 واضح گروپ سامنے آ چکے ہیں، ایک مریم نواز کا اور دوسرا حمزہ شہباز شریف کا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مسلم لیگ ن کے ذرائع بتاتے ہیں کہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ پر حمزہ شہباز شریف کا مکمل کنٹرول ہے، جہاں وہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: لاہور سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر انتخاب کون لڑے گا؟ پارٹی نے فہرست جاری کردی

ذرائع کے مطابق کارکنان جانتے ہیں کہ اگر ان کا تعلق حمزہ شہباز کے گروپ سے ہے تو پنجاب میں ان کے کام نہیں ہو سکتے اور یہی صورتحال مریم نواز کے گروپ کے حوالے سے بھی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز علی ڈار کو لاہور یا پنجاب کے کسی حلقے سے الیکشن لڑوانے کی خواہشمند ہیں اور اس حوالے سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، دوسری جانب حمزہ شہباز نہیں چاہتے کہ علی ڈار پنجاب سے عملی سیاست کا آغاز کریں اور وہ بھی لاہور سے۔

مزید پڑھیں: ن لیگ کا اعلیٰ سطح اجلاس: متنازع حلقوں میں ٹکٹ تقسیم کرنے کی حکمت عملی طے

لیگی ذرائع کے مطابق اگر علی ڈار لاہور سے الیکشن لڑتے ہیں تو اس کا نقصان کسی اور کو نہیں بلکہ حمزہ شہباز شریف کو ہو گا، جن کی سوچ یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اگر مریم نواز وزیر اعظم کی امیدوار ہوں گی تو وہ خود پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار بنیں گے۔

تاہم علی ڈار کی موجودگی میں ممکنہ طور پر وہ بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار بن سکتے ہیں، اس لیے حمزہ شہباز شریف چاہتے ہیں کہ علی ڈار کو کسی صورت لاہور یا پنجاب سے الیکشن نہ لڑوایا جائے۔

مزید پڑھیں: ناراض ن لیگی رہنماؤں کے پارٹی سے کیا گلے شکوے ہیں؟

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حمزہ شہباز شریف نے یہ بات وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی کی ہے کہ علی ڈار کو پنجاب میں عملی سیاست سے دور رکھا جائے۔

اس کشمکش کے تناظر میں حمزہ شہباز نے خود کو پارٹی معاملات میں زیادہ فعال ثابت کرنا شروع کر دیا ہے، وہ ناراض لیگی کارکنوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، غمی و خوشی کے مواقع پر لوگوں سے مل جل رہے ہیں۔

حمزہ شہباز اسی طرح پارٹی کے صدر نواز شریف سے بھی پنجاب میں فعال سیاسی کردار ادا کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں، جس پر سابق وزیر اعظم نے اس ضمن میں انہیں درکار مشاورت کا یقین دلایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور انٹری پوٹ معیشت

’قانون بنانے والے ہی قانون توڑنے لگے‘، بغیر ہیلمٹ اور لائسنس کے بائیک چلانے پر صارفین مرتضیٰ وہاب پر برس پڑے

پاک بنگلہ دیش پہلا ٹیسٹ: پہلے دن کے اختتام پر میزبان ٹیم کے 4 وکٹوں کے نقصان پر 301 رنز

ایران امریکا جنگ: بڑے فیصلے متوقع، پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟

عالمی تعلیمی پلیٹ فارم ‘کینوس’ پر سائبر اٹیک، فائنل امتحانات کے دوران کروڑوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

ویڈیو

ایران امریکا جنگ: بڑے فیصلے متوقع، پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟

معرکہ حق کا ایک سال: راجہ بازار راولپنڈی کے شہریوں کا مودی کو سخت پیغام

اگر پھر بھارتی جارحیت ہوئی تو جواب ’معرکۂ حق‘ کی طرح دیا جائے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

کتابوں کا عاشق افسانہ نگار

7مئی: انڈیا تین میں، نہ تیرہ میں

شہنشاہِ ہجر شو کمار بٹالوی