صنعتی پولٹری فارمنگ سے فوڈ پوائزننگ کے جراثیم 100 گنا بڑھ گئے، نئی تحقیق

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ صنعتی پیمانے پر مرغی پالنے کے نظام نے فوڈ پوائزننگ کا باعث بننے والے بیکٹیریا کے پھیلاؤ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جس سے انسانی صحت کے لیے نئے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے آئی نیوس آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ کے محققین کی تحقیق کے مطابق بڑے پیمانے پر مرغی فارموں کے پھیلاؤ نے کیمپائلوبیکٹر نامی بیکٹیریا کو تیزی سے بڑھنے اور نئی خصوصیات حاصل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔

کیمپائلوبیکٹر دنیا بھر میں دست اور غذائی زہریلے پن (فوڈ پوائزننگ) کی سب سے عام بیکٹیریائی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ میں یہ جراثیم ہر سال دیگر تمام نگرانی میں شامل غذائی بیکٹیریا کے مجموعی کیسز کے مقابلے میں تقریباً ساڑھے تین گنا زیادہ معدے کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

تحقیق کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں مرغی پالنے کی صنعت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔ 1960 کی دہائی سے اب تک دنیا میں مرغیوں کی تعداد تقریباً 7 گنا بڑھ کر 3100 کروڑ (31 ارب) تک پہنچ چکی ہے، جس نے جنگلی پرندوں سے آنے والے بیکٹیریا کو مرغیوں کی آبادی میں پھیلنے کے مواقع فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیے کیا برائلر چکن واقعی قوت مدافعت کم کرتا ہے؟

سائنس دانوں نے 1979 سے 2024 کے دوران 30 ممالک، جن میں برطانیہ اور امریکا بھی شامل ہیں، سے حاصل کیے گئے مرغیوں اور جنگلی پرندوں کے تقریباً 2800 بیکٹیریائی جینومز کا تجزیہ کیا۔

جینیاتی تجزیے کے دوران محققین نے کیمپائلوبیکٹر میں ایسی تبدیلیاں دریافت کیں جو ماحول میں آنے والی تبدیلیوں سے براہ راست وابستہ تھیں۔ ان میں اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے والے جینز اور ایسے عوامل شامل تھے جو بیکٹیریا کو جدید پولٹری فارمنگ کے حالات میں زندہ رہنے میں مدد دیتے ہیں۔

محققین کے مطابق اینٹی بائیوٹک مزاحمت میں اضافے کے باعث کیمپائلوبیکٹر سے ہونے والے انفیکشن کا علاج بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

تحقیق کے لیے تیار کیے گئے ریاضیاتی ماڈلز سے ظاہر ہوا کہ جب مرغیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے تو جنگلی پرندوں سے آنے والے بیکٹیریا کی مخصوص اقسام مرغیوں کی آبادی میں مستقل طور پر قائم ہو سکتی ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور تحقیق کے مرکزی مصنف سام شیپرڈ نے کہا کہ نتائج اس بات کا نیا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ماحول میں آنے والی تبدیلیاں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں اور اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے خطرات کم کرنے کے لیے بیکٹیریا کے ارتقائی عمل کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے والا دھر لیا گیا، 4 سال قید، 10 لاکھ جرمانہ

’تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بڑے اور گنجان آباد مرغی فارم‘ جراثیم کے ذخیرے کا کردار ادا کر سکتے ہیں، جہاں مختلف ذرائع سے آنے والے بیکٹیریا جمع ہو کر مزید طاقتور ہو جاتے ہیں۔

تحقیق کی پہلی مصنفہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی محقق اوکم کائن نے کہا کہ جب کیمپائلوبیکٹر مرغیوں کے ماحول کے مطابق خود کو تبدیل کرتا ہے تو وہ ایسی خصوصیات حاصل کر سکتا ہے جو اسے مشکل حالات میں زندہ رہنے میں مدد دیتی ہیں، جن میں اینٹی بایوٹک مزاحمت بھی شامل ہے۔

محققین کے مطابق دنیا میں موجود تمام پرندوں کے حیاتیاتی وزن (Biomass) کا تقریباً 70 فیصد حصہ اب مرغیوں پر مشتمل ہے۔

اس سے قبل آئی نیوس آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ برطانیہ کے علاقے آکسفورڈ شائر میں انسانوں میں کیمپائلوبیکٹر انفیکشن کے 80 فیصد کیسز کا تعلق مرغی کے گوشت سے تھا، جن میں سے کئی جراثیم اینٹی بایوٹک کے خلاف مزاحمت رکھتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’پاکستانی ڈراموں کا کوئی مقابلہ نہیں‘، بھارتی اداکارہ شہناز گل بھی ہانیہ عامر، بلال عباس اور فہد مصطفیٰ کی دیوانی نکلیں

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے کے پی اور بلوچستان کے تاجروں کی ملاقات، کیا کچھ زیربحث آیا؟

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے وفود میں اہم ملاقات، کشیدگی ختم کرنے پر اتفاق

سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

کنگنا رناوت نے بھارت کی جین زی جنریشن کو ’گٹر جنریشن‘ کیوں کہا؟

ویڈیو

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘