اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت اہم اجلاس میں شہریوں کی سہولت کے لیے بڑے فیصلے کیے گئے ہیں، جن میں پاسپورٹ نظام کو مزید تیز، جدید اور شفاف بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اجلاس میں پاسپورٹ کے اجرا کے طریقہ کار اور سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری کا اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی پاسپورٹ پر ٹرمپ کی تصویر: نئے ڈیزائن پر عوامی غم و غصے کی لہر، ‘بدصورت’ قرار
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ نارمل پاسپورٹ کی اجراء مدت 21 دن سے کم کر کے اب 14 دن کر دی گئی ہے، جس سے شہریوں کو بروقت سہولت میسر آئے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پہلے نارمل پاسپورٹ 21 دن میں جاری کیا جاتا تھا، تاہم اب اس عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاسپورٹ دفاتر میں مکمل طور پر کیش لیس سسٹم نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد شفافیت بڑھانا اور ایجنٹ مافیا کے کردار کو ختم کرنا ہے۔ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ 15 روز کے اندر اندر تمام پاسپورٹ دفاتر میں کیش لیس نظام مکمل طور پر فعال کیا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پاسپورٹ کی گھروں کی دہلیز تک ڈیلیوری کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہوں نے بزنس پاسپورٹ کے اجراء کے نظام کو جلد حتمی شکل دینے کی بھی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت کا حکومت کو بڑا ریلیف، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات بحال کردیں
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اور عوامی سہولت کے لیے ایک علیحدہ پاسپورٹ اتھارٹی کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ جدید اصلاحات کے ذریعے نظام کو زیادہ شفاف اور عوام دوست بنایا جائے گا۔
اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی اور نئے نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔











