وفاقی آئینی عدالت کا حکومت کو بڑا ریلیف، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات بحال کردیں

پیر 27 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم قرار دی گئی دفعات بحال کر دیں۔ دفعات کی بحالی کے بعد شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اختیار دوبارہ بحال ہو گیا۔

عدالت نے حکومت کو شہریوں کے پاسپورٹ کو غیر فعال قرار دینے کا اختیار بھی بحال کر دیا اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے حکومتی اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی۔

یہ بھی پڑھیے: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ جاری کرنا اولین ترجیح، وزیر داخلہ محسن نقوی

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ‘کیا یہ ڈنکی لگا کر جانے والوں کا کیس ہے؟’

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فرحان علی نامی شہری غیر قانونی طور پر ایران گیا تھا جہاں سے اسے ڈی پورٹ کیا گیا۔ ان کے مطابق غیر قانونی اقدامات پر اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔

وکیل عامر رحمان نے موقف اختیار کیا کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام کی شمولیت اور پاسپورٹ کو غیر فعال قرار دینا چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ‘یہ خود باہر جانے والا تھا یا لوگوں سے پیسے لے کر اٹلی بھیجتا تھا؟’

یہ بھی پڑھیے: تفتان بارڈر: جعلی پاسپورٹ پر پاکستان میں داخل ہونے والا مسافر گرفتار

انہوں نے مزید سوال کیا کہ ‘ایف آئی اے نے اب تک کیا تفتیش کی ہے؟’ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سے مکمل معلومات حاصل نہیں کی گئیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی دفعات 3 اور 10 کو کالعدم قرار دیا تھا۔ بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp