سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اقدامات، بینکاری نظام میں قانونی اصلاحات کا فیصلہ

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں بینکاری تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے اصلاحات پر غور کیا گیا، جس میں ADR نظام کے نفاذ اور قانونی پیچیدگیوں کے خاتمے پر اتفاق سامنے آیا۔

چیف جسٹس، جو لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (LJCP) کے چیئرمین بھی ہیں، نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بینکاری مقدمات میں تاخیر اور ان کے غیر مؤثر ہونے کے اسباب کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ کس طرح متبادل تنازعہ حل (ADR) کے نظام کو اپناتے ہوئے مقدمات کے فوری اور کم لاگت حل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

یہ مشاورت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے تجربات کی روشنی میں کی گئی، جہاں ADR کمیٹیوں کے ذریعے ٹیکس مقدمات میں نمایاں کمی اور تیز تر فیصلوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اسی ماڈل کو بینکاری شعبے میں بھی متعارف کرانے کی تجاویز زیر غور آئیں۔

یہ بھی پڑھیے عدالتوں میں اے آئی کے استعمال کی منظوری، سپریم کورٹ نے قومی گائیڈ لائنز جاری کر دیں

اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججز، وفاقی وزیر خزانہ، اٹارنی جنرل، چیئرمین ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، بینکاری محتسب، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، ایف پی سی سی آئی اور دیگر اہم سرکاری و نجی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بینکاری مقدمات کا براہِ راست تعلق مالیاتی نظم و ضبط، قرضوں کے بہاؤ اور مجموعی معاشی استحکام سے ہے، تاہم موجودہ نظام میں پیچیدگیاں اس عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہدفی قانونی اصلاحات، سادہ طریقہ کار اور ADR کے مؤثر نفاذ کے ذریعے مقدمہ بازی پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں بینکاری ریکوری نظام میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی، مقدماتی عمل کو آسان بنانے، ریگولیٹری اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے اور ADR ماڈل کو مضبوط بنانے جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بینکاری تنازعات کے مؤثر حل سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، مالیاتی نظام مستحکم ہوگا اور معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ نے انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے حامل جدید اقدامات شروع کردیے

لاء اینڈ جسٹس کمیشن ان تجاویز کو ایک جامع اصلاحاتی فریم ورک کی شکل دے گا، جسے ماہرین کی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ بعد ازاں اس کی منظوری کے لیے کمیشن کے سامنے پیش کر کے وزارتِ قانون و انصاف کو پالیسی اقدامات کے لیے بھجوایا جائے گا۔

یہ اقدام پاکستان میں بینکاری تنازعات کے حل کے نظام کو تیز، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی