امریکی محکمہ جنگ کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے طے کر لیے ہیں تاکہ جدید اے آئی صلاحیتوں کو خفیہ نیٹ ورکس میں شامل کیا جا سکے۔
بیان کے مطابق امریکی محکمہ جنگ سال کے آغاز سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا تاکہ فوجی کارروائیوں میں اے آئی کے استعمال کو وسعت دی جا سکے اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔
یہ بھی پڑھیے: کیا اداکاری کرنے والے اے آئی بوٹس کو آسکر ایوارڈ مل سکے گا؟ اکیڈمی نے وضاحت جاری کردی
ان معاہدوں کے تحت اسپیس ایکس، اوپن اے آئی، گوگل، این ویڈیا، ریفلیکشن، مائیکروسافٹ، ایمیزون ویب سروسز اور اوریکل شامل ہیں، جو اپنی اے آئی ٹیکنالوجی کو ’قانونی آپریشنل استعمال‘ کے لیے فراہم کریں گی۔
پینٹاگون کے مطابق مصنوعی ذہانت کو محکمے کے امپیکٹ لیول 6 اور 7 نیٹ ورکس میں ضم کیا جائے گا تاکہ ڈیٹا کے تجزیے کو تیز، صورتحال کی بہتر سمجھ بوجھ پیدا اور پیچیدہ جنگی ماحول میں فیصلہ سازی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے 11 سالہ سعد جہانگیر منج نے اے آئی ایم ٹائٹل جیت کر شطرنج میں تاریخ رقم کر دی
بیان میں کہا گیا کہ محکمے کا آفیشل اے آئی پلیٹ فارم ’GenAI.mil‘ گزشتہ پانچ ماہ میں 13 لاکھ سے زائد اہلکار استعمال کر چکے ہیں، جس کے ذریعے کروڑوں پرامپٹس تیار کیے گئے اور لاکھوں خودکار ایجنٹس تعینات کیے گئے۔ اس ٹیکنالوجی سے بعض کاموں کی رفتار مہینوں سے کم ہو کر چند دن رہ گئی ہے۔
دوسری جانب معروف اے آئی کمپنی انتھروپک کو معاہدوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ کمپنی اور پینٹاگون کے درمیان اس وقت اختلافات پیدا ہوئے جب انتھروپک نے اپنی ٹیکنالوجی کے حفاظتی اقدامات نرم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ اس کی اے آئی کو اندرون ملک نگرانی یا خودکار ہتھیاروں میں بغیر انسانی نگرانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔













