پاکستان نے افغانستان سے متعلق برطانوی خصوصی نمائندے کے سوشل میڈیا بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے تبصرے زمینی حقائق کو سمجھے بغیر کیے گئے ہیں اور خطے کی صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی نمائندے کے ریمارکس میں پاک افغان سرحدی حالات کی گہری سمجھ کا فقدان نظر آتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی اور دراندازی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں، جو پاکستان کی جانب سے مارچ 2026 میں کیے گئے عارضی جنگ بندی کے اقدام کے باوجود نہیں رکیں۔
🔊PR No.1️⃣1️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️ pic.twitter.com/Zwsoeh3MiM— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 2, 2026
بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان سے منسلک عناصر اور ان کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے پاکستان میں حملوں کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر کارروائیاں کیں اور دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ متعدد دراندازی کی کوششیں بھی ناکام بنائیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان پر شہری ہلاکتوں کے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کے اصل اسباب کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے بیانات دینا متوازن اور معروضی مؤقف نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان سرحد پر دراندازی کی 2 کوششیں ناکام، 13 شدت پسند ہلاک
بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ خطے کی صورتحال، پاکستان کے اصولی مؤقف اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام کی بے مثال قربانیوں کو مدنظر رکھے۔














