جرمن ایئر لائن ‘لوفتھانزا’ نے روسی ہدایت کار پاول تالنکن کا آسکر ایوارڈ تلاش کرلیا جو نیویارک سے جرمنی کی پرواز کے دوران لاپتا ہوگیا تھا۔
پاول تالنکن نے رواں برس اپنی دستاویزی فلم ‘مسٹر نو بڈی اگینسٹ پیوٹن’ کے لیے بہترین دستاویزی فلم کا آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم ’اوپن ہائمر‘ کی کہانی کیا ہے؟
واقعے کی تفصیلات کے مطابق جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں نے 8.5 پاؤنڈ وزنی اس سنہری مجسمے کو ‘ممکنہ سیکیورٹی خطرہ’ قرار دیتے ہوئے جہاز کے کیبن میں لے جانے سے روک دیا تھا۔
فلم کے شریک ہدایت کار ڈیوڈ بورنسٹائن نے انسٹاگرام پر بتایا کہ ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے اہلکاروں کا مؤقف تھا کہ اس وزنی مجسمے کو بطور ‘ہتھیار’ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
چونکہ ہدایت کار کے پاس اسے رکھنے کے لیے کوئی اضافی بیگ نہیں تھا، اس لیے اہلکاروں نے اسے ایک باکس میں بند کر کے جہاز کے مال خانے میں بھجوا دیا، جہاں سے وہ لاپتا ہوگیا تھا۔
View this post on Instagram
لوفتھانزا کے ترجمان نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ مجسمہ فرینکفرٹ میں بحفاظت مل گیا ہے اور اسے جلد از جلد مالک تک پہنچانے کے لیے ہدایت کار سے رابطہ کیا جارہا ہے۔
ایئر لائن نے اس تکلیف پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی اندرونی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ قیمتی سامان کیسے لاپتا ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: آسکر ایوارڈ تقریب غزہ اور یوکرین میں جنگ کیخلاف احتجاج سے عبارت رہی
پاول تالنکن نے اس صورتحال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ایوارڈ کو ہتھیار کیسے مانا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی کئی پروازوں میں اسے اپنے ساتھ کیبن میں لے جا چکے ہیں اور کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔
یاد رہے کہ تالنکن کی دستاویزی فلم روس کے علاقے چیلیابنسک کے ایک اسکول میں دو سال کے دوران ریکارڈ کی گئی فوٹیج پر مبنی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح طلبہ کو صدر ولادیمیر پیوٹن کی یوکرین جنگ کے حق میں راغب کیا جاتا ہے۔
35 سالہ تالنکن 2024 میں روس سے فرار ہو گئے تھے اور وہ اپنی فلم کو ایک تاریخی ریکارڈ قرار دیتے ہیں۔














