ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے سرکاری دورہ پاکستان سے قبل ایران امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی تکمیل میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور حکومت پاکستان کی سفارتی کوششوں کو کھلے الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہاکہ پاکستان کی سفارتی کاوشوں نے معاہدے کو آگے بڑھانے، ایرانی قوم کے حقوق کی حمایت کرنے اور خطے میں امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
1/3
President @drpezeshkian , before departing for Pakistan, said the visit follows extensive efforts by PM Shehbaz Sharif, Field Marshal Asim Munir, Interior Minister Mohsin Naqvi, and the Pakistani government in facilitating the Iran–US Islamabad Memorandum. pic.twitter.com/3eqkTgIR5F— Government of the Islamic Republic of Iran (@Iran_GOV) June 23, 2026
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی کوششیں ایران امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں نہایت مؤثر ثابت ہوئیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ ان کا موجودہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور حکومت پاکستان کی ان وسیع سفارتی کوششوں کے اعتراف کے طور پر ہے، جنہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اسلام آباد کا انتخاب پاکستان کے کردار کی سفارتی توثیق قرار
ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کے اختتام کے بعد صدر مسعود پزشکیان کی پہلی سفارتی مصروفیت کے لیے اسلام آباد کا انتخاب اس امر کی علامت ہے کہ ایران، پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار کو تسلیم کرتا ہے۔ اس دورے کو پاکستان کی ثالثی اور سہولت کاری کی سفارتی توثیق قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے یہ کردار کسی سفارتی شہرت یا سیاسی فائدے کے لیے نہیں اپنایا بلکہ اس لیے آگے بڑھا کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی براہ راست پاکستان کی سلامتی، معیشت، توانائی کے مفادات، تجارتی راستوں اور مجموعی علاقائی استحکام کو متاثر کرتی ہے۔
پاکستان نے سہولت کار اور ثالث دونوں کا کردار ادا کیا
پاکستان نے اس پورے عمل میں سہولت کار اور ثالث دونوں کی حیثیت سے کردار ادا کیا۔ قابل اعتماد رابطوں کے ذرائع فراہم کر کے، باہمی بداعتمادی کم کرکے اور عملی نوعیت کی مفاہمت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پاکستان نے ایسے حالات پیدا کیے جن میں سفارت کاری ممکن ہو سکی، جبکہ اس پورے عمل میں توازن، غیر جانبداری اور بین الاقوامی قانون کو بنیادی رہنما اصول بنایا گیا۔
پاکستان علاقائی سفارتی پل کے طور پر ابھر رہا ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا دورہ اس حقیقت کو مزید تقویت دیتا ہے کہ پاکستان اب مختلف جغرافیائی و سیاسی بلاکس کے درمیان ایک قابل اعتماد سفارتی پل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایران، امریکا، چین، خلیجی ممالک اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعمیری تعلقات اسے تمام فریقوں کے ساتھ مؤثر انداز میں رابطہ رکھنے اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو کسی حتمی منزل کے بجائے اعتماد سازی کے ایک وسیع تر عمل کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ توقع ہے کہ صدر مسعود پزشکیان کے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا مرکز معاہدے پر عملدرآمد ہوگا، کیونکہ پائیدار امن کا انحصار مسلسل سیاسی عزم اور جاری مکالمے پر ہے۔
پاکستان کا پیغام مستقل، سفارت کاری ہی مسائل کا حل ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا، خلیجی خطے، وسطی ایشیا اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم رابطہ پل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایران امریکہ مفاہمتی عمل میں کامیاب سہولت کاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا علاقائی کردار اب صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ تعمیری سفارت کاری، بحرانوں کے انتظام اور اعتماد سازی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا مؤقف مسلسل اور واضح رہا ہے کہ تصادم کے مقابلے میں مکالمہ، کشیدگی کے مقابلے میں سفارت کاری اور محاذ آرائی کے بجائے علاقائی تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
’صدر مسعود پزشکیان کا دورہ اس امر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، مؤثر اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے سرگرم سفارتی شراکت دار کے طور پر اپنی ساکھ مضبوط بنا رہا ہے۔‘














