وفاقی آئینی عدالت نے عدالتی فیصلوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے اور بعد از مقررہ مدت سنائے جانے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے اس عمل کو قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا، جو 7 صفحات پر مشتمل ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹس محفوظ شدہ فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہیں، اور مقررہ مدت کے بعد سنایا جانے والا فیصلہ اسی بنیاد پر کالعدم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے رولز اور قوانین کو قانونی حیثیت حاصل ہے، اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
عدالت نے واضح کیا کہ بینچ کے ارکان کی جانب سے فیصلے کے اجرا سے قبل کسی بھی قسم کی لیکج یا معلومات کا افشا عدالتی قواعد کے خلاف ہے۔ تمام ججز اور عدالتی عملہ ان قواعد پر مکمل طور پر عملدرآمد کا پابند ہے۔
عدالت کے مطابق بینچ کا سربراہ قبل از وقت فیصلے یا اس کے نکات کے لیک ہونے کی صورت میں ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے، جبکہ مقدمے کی دوبارہ سماعت اسی بینچ یا کسی نئے بینچ کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے۔
ہائیکورٹس میں ایسے معاملات چیف جسٹس جبکہ سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ زیر التوا مقدمات کا بوجھ ہونے کے باوجود انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے۔ عدالت نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ عرصے میں فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جس سے فریقین کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔
موجودہ کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے ایک محفوظ شدہ فیصلہ 10 ماہ بعد سنایا تھا۔ اس معاملے پر عدالت نے آبزرویشنز دیتے ہوئے کہاکہ اس نوعیت کے عمل پر نظرثانی ضروری ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹا دی اور سندھ ہائیکورٹ کی بعض آبزرویشنز حذف کرنے کا حکم دیا۔
یہ اپیل پینشن کی ادائیگی سے متعلق مقدمے میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے کو تمام ہائیکورٹس میں عملدرآمد کے لیے بھجوانے کا حکم بھی دیا ہے۔














