چین کے شہر ہانگژو میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور بے ہنگم ٹریفک پر قابو پانے کے لیے روایتی طریقہ کار کے بجائے اب ہیومنائڈ روبوٹس کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں۔
مئی کی چھٹیوں کے دوران مشرقی چین کے اس شہر میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک حکام نے 15 ہیومنائڈ روبوٹس پر مشتمل ایک خصوصی دستہ سڑکوں پر اتارا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں چینی روبوٹس پر پابندی کے لیے قانون سازی کی تیاری
یہ روبوٹ ہانگژو کے اہم چوراہوں پر نہ صرف گاڑیوں بلکہ پیدل چلنے والوں کو بھی باقاعدہ ہدایات دیتے ہوئے اور ٹریفک کنٹرول کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد چھٹیوں کے دوران ٹریفک کے غیر معمولی رش کو سنبھالنے میں انسانی اہلکاروں کی مدد کرنا ہے، اور ہانگژو جیسے ٹیکنالوجی کے مرکز میں، جہاں ڈیپ سیک جیسی معروف اے آئی کمپنیاں موجود ہیں، اس قسم کی جدت کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔
Robots are now guarding road safety. On May 1, China deployed its first team of intelligent traffic‑control robots onto the streets of Hangzhou.
Fifteen robots are helping ease the workload on police officers and improving comfort and safety for millions of tourists. They begin… pic.twitter.com/cRVEzcjC90
— China pulse 🇨🇳 (@Eng_china5) May 2, 2026
دوسری جانب، امریکا کے شہر نیویارک میں پولیس کی جانب سے روبوٹک ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ایک مختلف رجحان سامنے آیا ہے جہاں سٹی کونسل کی رکن جینیفر گوٹیرز نے ایسیموو ایکٹ کے نام سے ایک قانون سازی متعارف کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روحانی مشورے دینے والا روبوٹ متعارف، کیا یہ مذہبی اسکالرز کی جگہ لے سکتا ہے؟
اس مجوزہ بل کا مقصد نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مسلح روبوٹس کے استعمال پر پابندی عائد کرنا ہے۔
جینیفر گوٹیرز کا موقف ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے اس دور میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان کے استعمال کی واضح حدود کا تعین کرنا انتہائی ضروری ہے۔
یہ قانون سازی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں پولیس فورسز اپنے کام میں مدد کے لیے روبوٹک ٹیکنالوجی کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کررہی ہیں۔














