انسانی شخصیت آخر بنتی کیسے ہے؟ کیا ہم اپنی پیدائش کے وقت ہی اپنی فطرت ساتھ لے آتے ہیں یا ہمارا ماحول ہمیں وہ انسان بناتا ہے جو ہم ہوتے ہیں؟ یہ سوال صدیوں سے زیرِ بحث ہے لیکن جدید جینیاتی اور نفسیاتی تحقیق نے اس بحث کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ارتقائی عمل محض اتفاق نہیں، 12 کروڑ سال پرانے جینیاتی راز سے پردہ اٹھ گیا
درحقیقت انسان کی شخصیت نہ صرف جینز سے متاثر ہوتی ہے اور نہ صرف ماحول سے بلکہ یہ دونوں عوامل مل کر ایک نہایت پیچیدہ انداز میں ہمیں تشکیل دیتے ہیں۔
ایک مقدمہ جس نے بحث چھیڑ دی
سنہ2009 میں اٹلی کے شہر ٹریئسٹ میں ایک شخص عبدالمَلک کو ایک شخص کے قتل کے جرم میں 9 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اس کے وکیل نے عدالت میں ایک غیر معمولی دلیل پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکل کے ڈی این اے میں وارئیر جین کی ایک قسم موجود ہے جو سائنسی تحقیق کے مطابق بعض اوقات جارحانہ رویے سے منسلک ہوتا ہے۔
عدالت نے اس دلیل کو جزوی طور پر تسلیم کیا اور سزا میں ایک سال کی کمی کر دی۔ یہ کیس دنیا بھر میں اس بحث کی علامت بن گیا کہ کیا جینیات انسانی رویے کو قانونی ذمہ داری سے بھی جوڑ سکتی ہے؟
مزید پڑھیے: ملین سال پرانی موسمی تبدیلی اور انسانی ارتقا کے درمیان اہم تعلق دریافت
بعد میں تحقیق نے واضح کیا کہ یہ تصور کہ ایک جین انسان کے رویے کو کنٹرول کرتی ہے انتہائی سادہ اور غلط فہمی پر مبنی تھا۔
’ایک جین، ایک رویہ‘ کا نظریہ غلط ثابت ہوا
سنہ1990 کی دہائی میں ایم اے او اے جین کو وارئیر جین کہا جانے لگا تھا کیونکہ کچھ مطالعات میں اسے جارحانہ رویے سے جوڑا گیا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ سائنسدانوں نے واضح کیا کہ انسانی رویہ چند مخصوص جینز سے نہیں بنتا بلکہ یہ ہزاروں جینی اثرات کا مجموعہ ہوتا ہے اور ہر جین کا اثر بہت معمولی ہوتا ہے۔
ایمسٹرڈم یو ایم سی کی محقق ایسو اوکبائے کے مطابق یہ پرانا خیال کہ چند جینز بڑے اثرات رکھتے ہیں اب مکمل طور پر رد ہو چکا ہے۔
جڑواں بچوں کی تحقیق اور شخصیت
شخصیت کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم تحقیق جڑواں بچوں پر کی گئی۔ سنہ 1920 کی دہائی سے شروع ہونے والی اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ ایک جیسے دکھنے والے جڑواں بچے جو 100 فیصد ڈی این اے شیئر کرتے ہیں ایک جیسے ماحول میں پرورش پانے کے باوجود بھی مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔
مزید پڑھیں: انسانوں کے ڈی این اے میں ایلینز کے جینز شامل ہوچکے، امریکی محقق کا دعویٰ
مختلف جڑواں بچے زیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ سنہ2015 کی ایک بڑی میٹا انالیسس جس میں ہزاروں مطالعات شامل تھے اس نتیجے پر پہنچا کہ شخصیت میں تقریباً 40 فیصد سے 50 فیصد فرق جینیاتی ہوتا ہے اور باقی فرق ماحول کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی مکمل جواب نہیں تھا۔
جڑواں جم کی حیران کن کہانی
سنہ 1979 میں ماہر نفسیات تھامس بوچارڈ نے ایسے جڑواں بچوں کو تلاش کیا جو پیدائش کے بعد الگ ہو گئے تھے۔ ان میں 2 جڑواں بھائی جنہیں ’جم ٹوئنس‘ کہا جاتا ہے حیران کن حد تک ایک جیسے نکلے۔
دونوں کی بیویوں کا نام لنڈا تھا۔ دونوں نے طلاق کے بعد دوسری شادی بیٹی نامی خواتین سے کی۔ دونوں نے اپنے بیٹوں کا نام تقریباً ایک جیسا رکھا اور یہاں تک کہ ان کے کتوں کے نام بھی ایک جیسے (ٹوائے) تھے۔
اگرچہ یہ کہانی بہت مشہور ہوئی لیکن ناقدین کے مطابق یہ محض اتفاقات کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے اور اس تحقیق میں طریقہ کار کی کمزوریاں موجود تھیں۔
غائب وراثت کا مسئلہ
انسانی جینوم میں تقریباً23 کروموسوم، 3 ارب ڈی این اے بیس پیئرز اور تقریباً 20,000 جینز ہوتے ہیں۔
انسانی ڈی این اے کا 99.9 فیصد حصہ ایک جیسا ہوتا ہے جبکہ صرف 0.1 فیصد فرق انسانوں کی انفرادیت کا سبب بنتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ چھوٹا سا فرق بھی لاکھوں جینی تبدیلیوں میں بکھرا ہوا ہے اور اسے سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: انسان کے مزاج کتنی اقسام کے، قدیم نظریہ کیا ہے؟
جینوم وائیڈ ایسوسی ایشن اسٹڈیز نے اس سمت میں پیش رفت کی لیکن نتائج توقع سے کمزور نکلے۔
اب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ شخصیت پولی جینک (متعدد جینز سے متعلق) ہے یعنی ہزاروں جینز مل کر اثر ڈالتے ہیں۔
ماحول کتنا اثر ڈالتا ہے؟
اگر جینز مکمل وضاحت نہیں دیتے تو سوال یہ ہے کہ ماحول کیا کرتا ہے؟
تحقیق کے مطابق بچپن کا ماحول شخصیت پر اثر ڈالتا ہے لیکن بالغ عمر کے بڑے واقعات (جیسے حادثہ، نوکری یا بڑا نقصان) شخصیت کو بنیادی طور پر نہیں بدلتے۔ یہاں تک کہ شادی یا بچے کی پیدائش بھی صرف معمولی تبدیلیاں لاتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پیاروں کے زندہ دفن ہوجانے کا خوف، انسانوں کی عجیب و غریب احتیاطی تدابیر
یونیورسٹی آف الینوائے کے برینٹ رابرٹس کے مطابق بڑے صدمے بھی عام طور پر انسان کی بنیادی شخصیت پر گہرا مستقل اثر نہیں چھوڑتے۔
ٹراما نیریٹو پر سوال
عام تصور یہ ہے کہ انسان اپنے صدمات سے مکمل طور پر بدل جاتا ہے لیکن تحقیق اس خیال کو مکمل طور پر سپورٹ نہیں کرتی۔
مطالعے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بچپن کا شدید دباؤ بعد میں نیوروٹیسزم جیسی شخصیتی خصوصیات بڑھا سکتا ہے لیکن بالغ عمر کے تجربات نسبتاً کم اثر رکھتے ہیں۔ نیوروٹیسزم سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص منفی جذبات کتنی شدت اور کتنی جلدی محسوس کرتا ہے۔
رحم مادر کا اثر
نئی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ حمل کے دوران ماں کا ذہنی دباؤ بچے کی شخصیت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ کچھ بچوں میں خوف، اداسی اور حساسیت زیادہ دیکھی گئی۔ ممکنہ وجہ ایپی جینیٹکس ہو سکتی ہے، یعنی جینز کے ایکسپریشن میں تبدیلی نہ کہ ڈی این اے میں تبدیلی۔
جدید نظریہ: شخصیت ایک مشترکہ نتیجہ ہے
اب سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شخصیت صرف جینیاتی نہیں اور صرف ماحول کی پیداوار بھی نہیں بلکہ یہ دونوں کا پیچیدہ امتزاج ہے۔
ہر جین کا اثر بہت چھوٹا ہے اور ہر تجربہ بھی معمولی اثر ڈالتا ہے لیکن یہ سب مل کر مجموعی شخصیت بناتے ہیں۔
دماغ اور نئی تحقیق
نئی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شخصیت کا تعلق پری فرنٹل کورٹیکس سے ہے۔ پری فرنٹل کورٹیکس دماغ کے سامنے والے حصے کا بیرونی حصہ ہوتا ہے جو سوچنے، فیصلہ سازی اور خود پر قابو رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسٹریس سے متعلق جینز نیوروٹیسزم سے جڑے ہو سکتے ہیں لیکن ڈوپامین (خوشی کے ہارمون) جیسے نظریات مکمل طور پر حتمی نہیں۔
الغرض انسان ایک متحرک نظام ہے اور تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ انسانی شخصیت جامد نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: ابتدا میں انسان کس خطے میں مقیم تھا، قدیم کھوپڑی نے نئے راز کھول دیے
جیسے محقق جانا انسٹنسکی کہتی ہیں کہ اگر کسی کے اندر جینی رجحان موجود بھی ہو تو وہ مختلف حالات میں مختلف رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ یعنی انسان نہ مکمل طور پر اپنے جین کا قیدی ہے اور نہ ہی اپنے ماحول کا بلکہ وہ ایک مسلسل بدلتا ہوا، پیچیدہ اور متحرک وجود ہے۔














