عربی زبان کے تحفظ کے لیے مجوزہ قانون، شناخت اور ثقافت کے تحفظ پر زور

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عربی زبان کے فروغ اور تحفظ کے لیے مجوزہ قانون کے تحت تعلیم، میڈیا، سرکاری خدمات، کاروبار، خاندانی زندگی اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں عربی کے استعمال کو یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اشتہارات، عوامی مہمات اور سرکاری تقریبات میں بھی عربی زبان کو لازمی قرار دینے کی بات کی گئی ہے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق ابوظہبی سے یسریٰ الشرفی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف تعلیمی نہیں رہا بلکہ قومی شناخت اور ثقافتی وابستگی سے جڑا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ان کے مطابق عربی محض ایک زبان نہیں بلکہ مذہب، تاریخ، اقدار اور معاشرتی یادداشت کی عکاس ہے۔

مزید پڑھیں: مسجد الحرام میں غیر عربوں  کے لیے عربی زبان تدریسی پروگرام کا آغاز

انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان کو کامیابی اور جدید طرزِ زندگی سے جوڑ دیا گیا ہے جبکہ عربی کو صرف تعلیمی یا رسمی مواقع تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول اصل مسئلہ انگریزی سیکھنا نہیں بلکہ عربی کا روزمرہ زندگی سے ختم ہونا ہے۔

دبئی سے ام معاذ نے کہا کہ اب اسپتالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں، ایئرپورٹس حتیٰ کہ بعض سرکاری اداروں کے پیغامات میں بھی انگریزی کا غلبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات اپنے ہی ملک میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے جہاں عربی دوسرے نمبر پر اور انگریزی پہلے نمبر پر آ چکی ہے۔

انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ نوجوان اماراتی روایتی لباس پہننے کے باوجود عوامی مقامات پر انگریزی بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، جو ان کے نزدیک شناخت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

دبئی ہی سے ام میثا نے کہا کہ نوجوان نسل روزمرہ گفتگو میں یا تو انگریزی استعمال کر رہی ہے یا دونوں زبانوں کو ملا کر بول رہی ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی نظام میں انگریزی پر انحصار، ٹیکنالوجی کا اثر، عربی کے محدود استعمال اور سوشل میڈیا پر غیر ملکی مواد کی بھرمار اس رجحان کی بڑی وجوہات ہیں۔

مزید پڑھیں: 18 دسمبر: عربی زبان کا عالمی دن

انہوں نے قومی سطح پر کونسل کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، تاہم کامیابی کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق بہتر نصاب، مضبوط عربی ڈیجیٹل مواد اور ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو طلبہ میں زبان سے محبت پیدا کریں۔

متعدد شہریوں کا کہنا ہے کہ عربی زبان کا تحفظ انگریزی کی مخالفت نہیں بلکہ دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی زبان، ثقافت اور قومی شناخت سے جڑی رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل، ارجنٹینا اور اسپین آمنے سامنے، ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسٹیڈیم پہنچ گئے

ٹی20 کے بعد بھارت کو انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں بھی شکست

’ریڈ فیوری‘ سے ’سیمفنی ان ریڈ‘ تک، اسپین عالمی فٹبال کا بے تاج بادشاہ کیسے بنا؟

مٹیاری کے قریب مال گاڑی حادثہ، اپ اور ڈاؤن ٹریک بند، ٹرین آپریشن 24 گھنٹے متاثر رہنے کا خدشہ

3 سال سے بھارت نہیں گئے، کرکٹر حسن علی کی اہلیہ کا بھارتی میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ردعمل

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ