عربی زبان کے فروغ اور تحفظ کے لیے مجوزہ قانون کے تحت تعلیم، میڈیا، سرکاری خدمات، کاروبار، خاندانی زندگی اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں عربی کے استعمال کو یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اشتہارات، عوامی مہمات اور سرکاری تقریبات میں بھی عربی زبان کو لازمی قرار دینے کی بات کی گئی ہے۔
خلیج ٹائمز کے مطابق ابوظہبی سے یسریٰ الشرفی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف تعلیمی نہیں رہا بلکہ قومی شناخت اور ثقافتی وابستگی سے جڑا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ان کے مطابق عربی محض ایک زبان نہیں بلکہ مذہب، تاریخ، اقدار اور معاشرتی یادداشت کی عکاس ہے۔
مزید پڑھیں: مسجد الحرام میں غیر عربوں کے لیے عربی زبان تدریسی پروگرام کا آغاز
انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان کو کامیابی اور جدید طرزِ زندگی سے جوڑ دیا گیا ہے جبکہ عربی کو صرف تعلیمی یا رسمی مواقع تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول اصل مسئلہ انگریزی سیکھنا نہیں بلکہ عربی کا روزمرہ زندگی سے ختم ہونا ہے۔
دبئی سے ام معاذ نے کہا کہ اب اسپتالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں، ایئرپورٹس حتیٰ کہ بعض سرکاری اداروں کے پیغامات میں بھی انگریزی کا غلبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات اپنے ہی ملک میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے جہاں عربی دوسرے نمبر پر اور انگریزی پہلے نمبر پر آ چکی ہے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ نوجوان اماراتی روایتی لباس پہننے کے باوجود عوامی مقامات پر انگریزی بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، جو ان کے نزدیک شناخت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔
دبئی ہی سے ام میثا نے کہا کہ نوجوان نسل روزمرہ گفتگو میں یا تو انگریزی استعمال کر رہی ہے یا دونوں زبانوں کو ملا کر بول رہی ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی نظام میں انگریزی پر انحصار، ٹیکنالوجی کا اثر، عربی کے محدود استعمال اور سوشل میڈیا پر غیر ملکی مواد کی بھرمار اس رجحان کی بڑی وجوہات ہیں۔
مزید پڑھیں: 18 دسمبر: عربی زبان کا عالمی دن
انہوں نے قومی سطح پر کونسل کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، تاہم کامیابی کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق بہتر نصاب، مضبوط عربی ڈیجیٹل مواد اور ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو طلبہ میں زبان سے محبت پیدا کریں۔
متعدد شہریوں کا کہنا ہے کہ عربی زبان کا تحفظ انگریزی کی مخالفت نہیں بلکہ دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی زبان، ثقافت اور قومی شناخت سے جڑی رہیں۔













