خیبر پختونخوا: معروف عالمِ دین مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق، 2 اہلکار زخمی

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مسلح افراد کے حملے میں معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت اور جے یو آئی کے سابق رکنِ اسمبلی، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھ تعینات 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔

چارسدہ پولیس نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سفید رنگ کی گاڑی پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار مولانا محمد ادریس شدید زخمی ہو گئے۔

چارسدہ پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا نشانہ مولانا ادریس تھے۔ ان کے مطابق حملے میں مولانا کو متعدد گولیاں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔

اہلکار نے بتایا کہ مولانا صبح کے وقت گھر سے اتمانزئی دارالعلوم جا رہے تھے کہ اس دوران انہیں نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ لاش اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں فائرنگ کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد بھی پہنچ گئی۔

ڈپٹی کمشنر چارسدہ بھی واقعے کے بعد اسپتال پہنچ گئے اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کارکنان کو یقین دلایا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

 گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا اظہار افسوس

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے معروف جید عالم دین سابق ایم پی اے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی قاتلانہ حملہ میں شہادت پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے
واقعہ کا علم ہوتے ہی انہوں نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا اور رپورٹ طلب کی۔
گورنر خیبر پختونخوا نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کو صرف صوبہ ہی نہیں بلکہ ملک کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید کی زندگی دین کے پرچار اور امن کے فروغ میں صرف ہورہی تھی۔ ایسے علماء فتنہ الخوارج فتنہ الہندوستان کے آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی قاتلوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔
گورنر نے شہید کے ورثاء ، طلباء اور عقیدت مندوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

چارسدہ میں شیخ محمد ادریس کی شہادت،  حملہ آور کون ہیں؟

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں معروف عالمِ دین شیخ محمد ادریس کی ٹارگٹ کلنگ کو مبصرین نے محض ایک واقعہ نہیں بلکہ مذہبی شخصیات اور سماجی استحکام کے خلاف ایک منظم سلسلے کی کڑی قرار دیا ہے، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں معروف عالمِ دین شیخ محمد ادریس ایک ٹارگٹڈ حملے میں جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کی سیکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار، پرویز اور شیر عالم، زخمی ہو کر قریبی طبی مرکز منتقل کیے گئے۔

تجزیاتی حلقوں کے مطابق یہ واقعہ ایک بڑے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں شدت پسند عناصر مسلسل ایسے علما کو نشانہ بنا رہے ہیں جو عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے اسلام کی حقیقی تعلیمات، امن کے پیغام اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چارسدہ میں شیخ محمد ادریس پر حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک وسیع مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد مذہبی علما، عوامی استحکام، معاشرتی اعتماد، قانون کی عملداری اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔

ان کے مطابق علما کو نشانہ بنا کر حملہ آور عناصر نے اسلامی اخلاقیات، دینی علم، انسانی وقار اور مہذب معاشرتی اصولوں کے خلاف اپنی گہری مخالفت کو بے نقاب کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر معاشرے کے کسی بھی طبقے کو نہیں چھوڑ رہے اور علما، اساتذہ، سیکیورٹی اہلکاروں، عبادت گزاروں اور عام شہریوں سمیت ہر طبقہ ان کے نشانے پر ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ گروہ دلیل اور منطق سے عاری ہو کر جبر، خوف، خونریزی اور اندھا دھند تشدد کے ذریعے پُرامن معاشروں میں خوف پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بعض مبصرین نے افغان طالبان پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کو پناہ دینے کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، کیونکہ یہ گروہ پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف علما بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ان عناصر کا بنیادی مقصد امن کو خراب کرنا، سماجی یکجہتی کو کمزور کرنا، عدم تحفظ کو فروغ دینا اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔

اسلامی تعلیمات کے تناظر میں علما کو قرآن و سنت، اخلاقی اقدار، عدل، رحم دلی اور اجتماعی ذمہ داری کے امین کے طور پر ایک باوقار مقام حاصل ہے۔ اس لیے علما پر حملہ نہ صرف افراد کے خلاف جرم ہے بلکہ یہ دینی رہنمائی، اسلامی اقدار، سماجی شعور اور قومی یکجہتی پر بھی حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چیک ریپبلک: تیرہویں صدی کی مقدسہ کی چوری شدہ کھوپڑی برآمد، ملزم گرفتار

ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

فیفا ورلڈ کپ فائنل کی تاریخ کا پہلا ’ہاف ٹائم شو‘ شکیرا، میڈونا اور بی ٹی ایس میلہ لوٹنے کو تیار

انسٹاگرام پر 10 لاکھ فالوورز کا سنگِ میل، ایمان فاطمہ کا مشکل وقت اور کامیابی پر جذباتی پیغام

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز