چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کی وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کے تسلسل کی پذیرائی

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی سفیر برائے پاکستان جیانگ زائی ڈونگ نے منگل کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، اوورسیز پاکستانیوں کو فوری اور مؤثر معاونت فراہم کرنے پر زور

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران چینی سفیر نے پاکستان کو مارکۂ حق کی برسی کے موقع پر حاصل ہونے والی فیصلہ کن کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی مضبوطی اور تسلسل کو سراہا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اس موقعے پر کہا کہ پاکستان، چین کے ساتھ اپنی آہنی اور ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کو تمام شعبوں میں مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کو جنگ تصور کیا جائےگا، اسحاق ڈار کا بھارت کو دوٹوک پیغام

فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات خطے میں تعاون، ترقی اور استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کو مزید وسعت دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کا بڑا فیصلہ، امریکی فٹبالر بالوگن کا ریڈ کارڈ واپس، صدر ٹرمپ کا خصوصی اظہار تشکر

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے کر 7 ویں بارعالمی چیمپیئن کا تاج اپنے سر سجا لیا

خاتون کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم کا قاتل گرفتار کرلیا گیا

آئی فون کو ٹکر دینے کی تیاری، سام سنگ گلیکسی ایس 27 میں زبردست فیچر متعارف

کل 6 جولائی سے ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟