آج شِو کمار بٹالوی کی برسی ہے۔ وارث شاہ کو پکارنے والی امرتا پرتیم نے انہیں ’برہا دا سلطان‘ قرار دیا تھا۔ وقت گزر گیا، لیکن ان کی شاعری آج بھی ویسے ہی تازہ ہے جیسے پہلی بار کسی نے ہجر کے درد کو لفظوں میں سنا ہو۔ وہ شاعر جس نے محبت کو خواب نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک ایسی حقیقت بنا دیا جو مسلسل دھڑکتی رہتی ہے۔
(نظم: لچھی کڑی)
کالی داتری چنن دا دستا
تے لچھی کڑی واڈھیاں کرے
اوہدے نیناں وچ لپّ لپّ کجلا
تے کناں وچ کوکلے ہرے۔
مکھ تے پسینہ اوہدے کھاوے انج میل نی
جویں ہندی کمیاں ‘تے کتے دی تریل نی
اوہدی ہتھ جیڈی لمی دھون ویکھ کے
پیلاں پاؤنوں مور وی ڈرے
کالی داتری…..۔
رنگ دی پیاری تے شرابی اوہدی ٹور نی
باغاں وچوں لنگھدی نوں لڑ جاندے بھور نی
اوہدے والاں وچ مسیا نوں ویکھ کے
کنے چن ڈبّ کے مرے
کالی داتری…..۔
گورے ہتھیں داتری نوں پایا اے ہنیر نی
وڈھّ وڈھّ لائی جاوے کنکاں دے ڈھیر نی
اوہنوں دھپّ وچ بھکھدی نوں ویکھ کے
بدلاں دے نین نے بھرے
کالی داتری چنن دا دستا
تے لچھی کڑی واڈھیاں کرے

شِو کمار بٹالوی کی تخلیقی دنیا کی بنیاد ان کی ذاتی زندگی کے گہرے زخموں پر استوار ہے۔ ان کے اندر ایک ایسا شاعر پیدا ہوا جس کے ہاں محبت وصال کا نہیں بلکہ فراق کا نام بن گئی اور یہی تنہائی ان کی شاعری کی سب سے بڑی طاقت بنی۔ وہ اس درد کے شاعر تھے جو انسان کی کایا بدل دیتا ہے۔
شِو کمار بٹالوی کی شاعری کو بڑے بڑے گلوکاروں نے آواز دی۔ جگجیت سنگھ، سُریندر کور اور نصرت فتح علی خان جیسے فنکاروں نے ان کا کلام گایا تو اشعار دل میں اترتی صدا بن گئے۔ ان کے ہاں ہجر صرف ایک لفظ نہیں بلکہ کیفیت ہے، جو کبھی چیخ بن جاتی ہے اور کبھی خاموشی۔ آج بھی ان کا کلام نئی نسل تک پہنچ رہا ہے اور فلمی دنیا تک اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
شِو کمار بٹالوی 23 جولائی 1936 کو نارووال کے قریبی قصبے میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل نہیں کی، مختلف چھوٹی ملازمتیں بھی کیں، لیکن ان کا مزاج کسی دفتر یا فائل کا پابند نہ ہو سکا۔ شاعری ہی ان کی اصل پہچان بن گئی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی اصل دنیا کاغذ اور لفظ ہیں۔ تقسیمِ ہند کے وقت وہ کم عمر تھے، مگر ہجرت کا دکھ ان کے شعور کا حصہ بن گیا۔
شعری مجموعے ’پیڑاں دا پراگا‘ ۔ ۔ ۔ ’آٹے دیاں چڑیاں‘ ۔ ۔ ۔ ’مینوں وداع کرو‘ اور پھر نظم ’لونا‘ ان کے فکری اور جذباتی مراحل کے عکس ہیں۔ 1967 میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا، جو ان کی کم عمری کی بدولت بہت بڑی ادبی پہچان تھا۔

ان کی شاعری میں نمایاں کردار ’ہجر‘ ہے۔ وہ ہجر کو صرف جدائی نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا وجود بنا دیتے ہیں، کبھی وہ انسان سے بڑا دکھائی دیتا ہے اور کبھی انسان کے اندر بیٹھا ہوا ایک سایہ بن جاتا ہے۔
’مائے نی مائے!
میرے گیتاں دے نیناں وچ
بِرہوں دی رڑک پوے
ادھی ادھی راتیں اُٹھ
رون موئے متراں نُوں
مائے سانوں نیند نہ پَوے‘
شِو کمار بٹالوی 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب 1973 کو محض 37 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔ وہ شاعر جو مختصر زندگی میں لمبی محبتیں اور گہرے دکھ لکھ گیا۔ ان کی شاعری ذاتی کرب سے نکل کر اجتماعی احساس کا نوحہ بن گئی۔

جب بھی محبت، درد یا فراق کی بات ہوگی، شِو کمار بٹالوی کا نام ضرور لیا جائے گا، کیونکہ انہوں نے محبت کو صرف لکھا نہیں، جیا تھا۔
اِک کُڑی جیہدا نام محبت
گُم ہے، گُم ہے، گُم ہے
ساد مُرادی سوہنی پھبت
گُم ہے، گُم ہے، گُم ہے
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













