ویٹیکن کے سربراہ پوپ لیو نے جوہری ہتھیاروں کی حمایت سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کلیسا ہمیشہ سے ایسے ہتھیاروں کے خلاف رہا ہے، اور ان پر تنقید کرنے والوں کو ‘سچ بولنا چاہیے’۔
یہ بیان انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سخت بیانات کے ردعمل میں دیا، جن میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ پوپ لیو ایران سے متعلق مؤقف کے باعث ‘کیتھولک افراد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں’۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اٹلی کا دورہ، پوپ لیو سے اہم ملاقات متوقع
پوپ لیو نے روم کے قریب کاستیل گاندولفو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘کلیسا کا مشن امن اور انجیل کی تبلیغ ہے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘اگر کوئی مجھ پر تنقید کرنا چاہتا ہے تو حقیقت کی بنیاد پر کرے، کیونکہ کلیسا برسوں سے جوہری ہتھیاروں کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے’۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پوپ ایران کے جوہری پروگرام کو نظر انداز کر رہے ہیں، اور یہ مؤقف ‘خطرناک’ ہے۔ دونوں شخصیات کے درمیان ایران جنگ کے معاملے پر کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی پوپ لیو سے ویٹیکن میں ملاقات متوقع ہے، جسے دونوں فریقین کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں ‘کھل کر بات چیت’ ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جنگیں اور وسائل کی لوٹ مار انسانیت کے مستقبل کی چوری ہیں، پوپ لیو
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ویٹیکن کے درمیان اختلافات ذاتی نوعیت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جس سے سفارتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق آنے والے عرصے میں یہ کشیدگی عالمی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
پوپ لیو نے اس موقع پر زور دیا کہ دنیا کو تنازعات کے بجائے امن کی طرف بڑھنا چاہیے، اور مذہبی و سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔














