امریکی اداکارہ میلیسا بریرا نے کہا ہے کہ غزہ اور فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کے بعد انہیں فلمی صنعت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ انسانی حقوق اور امن کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گی۔
امریکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں اداکارہ نے انکشاف کیا کہ اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد فلسطین کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹس اور فنڈ ریزنگ لنکس شیئر کرنے پر انہیں Scream 7 سے نکال دیا گیا جبکہ ٹیلنٹ ایجنسی WME نے بھی ان سے علیحدگی اختیار کرلی۔
View this post on Instagram
اس وقت اداکارہ کی پوسٹس کو ’یہود مخالف‘ قرار دیتے ہوئے ان پر ’نفرت انگیزی کو ہوا دینے‘ کے الزامات عائد کیے گئے تھے تاہم میلیسا بریرا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن، آزادی اور انسانی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’خاموش رہنا میرے لیے ممکن نہیں۔ میں اُن لوگوں کے لیے بولتی رہوں گی جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے‘۔
View this post on Instagram
اداکارہ کے مطابق تنازع کے بعد تقریباً ایک سال تک انہیں کام کے مواقع نہ ہونے کے برابر ملے، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ اداکاری کا وہ خواب، جو انہوں نے میکسیکو میں بچپن سے دیکھا تھا شاید ختم ہو چکا ہے۔
بعد ازاں فلم ساز Boots Riley کی جانب سے ایک کردار کی پیشکش نے ان کے کیریئر کو نئی سمت دی۔ بریرا نے کہا کہ اس کے بعد انہیں مزید فلمی آفرز موصول ہونا شروع ہوئیں اور ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بچے قوتِ گویائی سے کیوں محروم ہو رہے ہیں؟
اداکارہ نے بتایا کہ وہ اب اپنی پروڈکشن کمپنی کے قیام پر توجہ دے رہی ہیں اور ایسے تخلیق کاروں کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں جو فلسطین کے حق میں کھل کر مؤقف رکھتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام افراد کو یاد رکھتی ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ان کی حمایت کی، جن میں Susan Sarandon، Tatiana Maslany، Hannah Einbinder اور Poppy Liu شامل ہیں۔
میلیسا بریرا اس وقت Titaníque میں روز کے کردار میں جلوہ گر ہیں، جبکہ اس میوزیکل کو رواں برس Tony Awards میں بہترین میوزیکل سمیت چار نامزدگیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔














