وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کے درمیان ملاقات میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے اور ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں پر پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور پاکستان کی توانائی ضروریات سے متعلق تعاون پر گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیے: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس، صورتحال پر اطمینان کا اظہار
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مسلسل تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں سعودی عرب کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں پاکستان کو خصوصی سہولت دی گئی، جس سے توانائی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں مدد ملی۔
ملاقات میں پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا جبکہ طویل المدتی توانائی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں مسلسل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کو توانائی کے تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے میں ہر ممکن مدد فراہم کرتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو پیٹرول اور ڈیزل پر 55 روپے تک لیوی لگانی پڑے گی، وفاقی وزیر پیٹرولیم کا انتباہ
بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر جاری مشاورت میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے اور مختلف ریفائنری اپ گریڈیشن اور سرمایہ کاری منصوبوں کے امکانات کا بھی مشترکہ جائزہ لیا جارہا ہے۔
سعودی سفیر نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب خصوصاً آرامکو کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک توانائی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانا چاہتا ہے، جبکہ حکومت پاکستان عوام کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔














