ممتا بنرجی کا مستعفی ہونے سے انکار، مغربی بنگال اسمبلی تحلیل

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ممتا بنرجی نے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد گورنر آر این روی نے باضابطہ طور پر مغربی بنگال کی ریاستی اسمبلی تحلیل کردی ہے۔

اسمبلی کی آئینی مدت جمعرات کی رات 12 بجے ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد راج بھون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 174 کی شق (2) کی ذیلی شق (ب) کے

تحت مغربی بنگال کی قانون ساز اسمبلی کو 7 مئی 2026 سے تحلیل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابی کامیابی کے بعد مغربی بنگال میں بی جے پی کے مخالفین پر حملے، 4 افراد ہلاک

 میڈیا رپورٹس کے مطابق، دوسری جانب ممتا بنرجی مسلسل اسمبلی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کررہی ہیں، جس کے باعث ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اب عدالت تک پہنچ سکتا ہے۔

 بھارتی آئین کیا کہتا ہے؟

آئینی امور کے ماہر اور ودھی سینٹر فار لیگل پالیسی کے آئینی قانون مرکز ‘چرکھا’ کے سربراہ سوپنل ترپاٹھی کے مطابق، آرٹیکل 174(2) (b) کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد اس کی آئینی مدت ختم ہوجاتی ہے اور وزراء کونسل کی آئینی حیثیت بھی برقرار نہیں رہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ سبکدوش ہونے والی وزیراعلیٰ عارضی طور پر نگراں کردار میں کام جاری رکھ سکتی ہیں، تاہم یہ صرف آئینی روایت ہے کوئی لازمی یا پابند قانون نہیں۔

سوپنل ترپاٹھی نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی کا استعفیٰ نہ دینا آئینی صورتحال کو تبدیل نہیں کرتا۔

اب اگلا مرحلہ نئی اسمبلی کی تشکیل اور ایسے رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دینا ہوگا جسے نو منتخب ارکانِ اسمبلی کی اکثریت حاصل ہو۔

ممتا بنرجی کے آپشنز؟

آئینی ماہرین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد ممتا بنرجی کے پاس بطور مستقل وزیراعلیٰ برقرار رہنے کا کوئی مؤثر آئینی راستہ موجود نہیں۔

سوپنل ترپاٹھی کے مطابق وزیراعلیٰ کی جمہوری حیثیت منتخب اراکین اسمبلی کے اعتماد سے وابستہ ہوتی ہے، اور جب اسمبلی ہی تحلیل ہوجائے تو حکومت کی آئینی بنیاد بھی ختم ہوجاتی ہے۔

عدالت سے رجوع کا راستہ

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر انتخابی عمل یا نتائج سے متعلق شکایات موجود ہیں تو عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت الیکشن پٹیشن دائر کی جاسکتی ہے۔

ایسی درخواستیں متعلقہ ہائیکورٹ میں دائر ہوں گی جہاں درخواست گزار کو کسی مخصوص حلقے میں انتخابی ضابطگیوں یا خلاف ورزیوں کو ثابت کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟