ممتا بنرجی نے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد گورنر آر این روی نے باضابطہ طور پر مغربی بنگال کی ریاستی اسمبلی تحلیل کردی ہے۔
اسمبلی کی آئینی مدت جمعرات کی رات 12 بجے ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد راج بھون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 174 کی شق (2) کی ذیلی شق (ب) کے
تحت مغربی بنگال کی قانون ساز اسمبلی کو 7 مئی 2026 سے تحلیل کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابی کامیابی کے بعد مغربی بنگال میں بی جے پی کے مخالفین پر حملے، 4 افراد ہلاک
میڈیا رپورٹس کے مطابق، دوسری جانب ممتا بنرجی مسلسل اسمبلی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کررہی ہیں، جس کے باعث ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اب عدالت تک پہنچ سکتا ہے۔
بھارتی آئین کیا کہتا ہے؟
آئینی امور کے ماہر اور ودھی سینٹر فار لیگل پالیسی کے آئینی قانون مرکز ‘چرکھا’ کے سربراہ سوپنل ترپاٹھی کے مطابق، آرٹیکل 174(2) (b) کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد اس کی آئینی مدت ختم ہوجاتی ہے اور وزراء کونسل کی آئینی حیثیت بھی برقرار نہیں رہتی۔
Defiant Didi: Assembly Dissolved 24 Hours Ago, But Mamata Still Clings to ‘Honourable CM’ Title on Xhttps://t.co/TEDBlnXN5b
— Republic (@republic) May 8, 2026
ان کا کہنا تھا کہ سبکدوش ہونے والی وزیراعلیٰ عارضی طور پر نگراں کردار میں کام جاری رکھ سکتی ہیں، تاہم یہ صرف آئینی روایت ہے کوئی لازمی یا پابند قانون نہیں۔
سوپنل ترپاٹھی نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی کا استعفیٰ نہ دینا آئینی صورتحال کو تبدیل نہیں کرتا۔
اب اگلا مرحلہ نئی اسمبلی کی تشکیل اور ایسے رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دینا ہوگا جسے نو منتخب ارکانِ اسمبلی کی اکثریت حاصل ہو۔
ممتا بنرجی کے آپشنز؟
آئینی ماہرین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد ممتا بنرجی کے پاس بطور مستقل وزیراعلیٰ برقرار رہنے کا کوئی مؤثر آئینی راستہ موجود نہیں۔
سوپنل ترپاٹھی کے مطابق وزیراعلیٰ کی جمہوری حیثیت منتخب اراکین اسمبلی کے اعتماد سے وابستہ ہوتی ہے، اور جب اسمبلی ہی تحلیل ہوجائے تو حکومت کی آئینی بنیاد بھی ختم ہوجاتی ہے۔
عدالت سے رجوع کا راستہ
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر انتخابی عمل یا نتائج سے متعلق شکایات موجود ہیں تو عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت الیکشن پٹیشن دائر کی جاسکتی ہے۔
ایسی درخواستیں متعلقہ ہائیکورٹ میں دائر ہوں گی جہاں درخواست گزار کو کسی مخصوص حلقے میں انتخابی ضابطگیوں یا خلاف ورزیوں کو ثابت کرنا ہوگا۔














