برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مقامی انتخابات میں حکمران لیبر پارٹی کو بھاری نقصان پہنچنے کے باوجود مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ دائیں بازو کی جماعت ریفام یو کے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
جمعے کو سامنے آنے والے نتائج کے مطابق نائجیل فراج کی قیادت میں ریفارم یو کے نے انگلینڈ کے شمالی صنعتی اور مزدور طبقے کے علاقوں میں سینکڑوں مقامی کونسل نشستیں جیت لیں۔ ان میں ہارٹل پول سمیت وہ علاقے بھی شامل ہیں جو ماضی میں لیبر پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: کیئر اسٹارمر کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر دن گنے جا چکے ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ
وزیراعظم اسٹارمر نے انتخابی نتائج کو ‘انتہائی مشکل’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ووٹرز نے حکومت کی کارکردگی اور تبدیلی کی رفتار کے بارے میں واضح پیغام دیا ہے، تاہم وہ بحران کے وقت ملک کو افراتفری میں نہیں دھکیلیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق 2024 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والی لیبر حکومت معاشی ترقی، مہنگائی میں کمی اور عوامی خدمات کی بہتری کے وعدے پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ امریکا-اسرائیل اور ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے برطانیہ کی معیشت پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر ‘پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے’ کی تحقیقات سے بچ گئے
ریفارم یو کے کے رہنما نائجیل فراج نے نتائج کو ‘برطانوی سیاست میں تاریخی تبدیلی’ قرار دیا۔ دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی بھی کئی علاقوں میں نشستیں گنوانے لگی جبکہ لبرل ڈیموکریٹس اور گرین پارٹی نے بھی اپنی حمایت میں اضافہ دیکھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نتائج برطانوی سیاست میں روایتی دو جماعتی نظام کے کمزور ہونے اور نئی سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے آئندہ عام انتخابات کے نتائج کی پیش گوئی مزید مشکل ہو گئی ہے۔














