دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے لیے استعمال ہونے والے مقبول ترین آن لائن پلیٹ فارم ‘کینوس‘ پر مئی 2026 کے فائنل امتحانات کے اہم ترین ہفتے کے دوران ایک بڑے سائبر حملے نے تعلیمی نظام کو مفلوج کردیا ہے، جس کے نتیجے میں کروڑوں طلبہ شدید پریشانی کا شکار ہوگئےہیں۔
اس بڑے حملے کی ذمہ داری بدنامِ زمانہ ہیکنگ گروپ ’شائنی ہنٹر‘ نے قبول کی ہے، جس نے تقریباً 9000 تعلیمی اداروں کے لاگ ان پیج کو ایک خوفناک پیغام سے بدل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیمبرج اے ایس لیول ریاضی کا لیک شدہ پرچہ منسوخ، امتحان دوبارہ ہوگا
اس ہیکنگ کے باعث کارنیل، کولمبیا اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا جیسے بڑے اداروں میں تدریسی عمل مکمل طور پر رک گیا ہے اور جو طلبہ اپنی اسائنمنٹس جمع کرانے یا آن لائن امتحانات دینے کی کوشش کررہے ہیں، انہیں اسکرین پر یہ پیغام موصول ہورہا ہے کہ ہیکرز نے کینوس کی مالک کمپنی ’انسٹرکچر‘ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرلی ہے۔
View this post on Instagram
ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے طلبہ کے شناختی کارڈز اور نجی پیغامات سمیت حساس ڈیٹا چوری کرلیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر 12 مئی تک تاوان ادا نہ کیا گیا تو یہ ڈیٹا فروخت کردیا جائے گا۔
امتحانات کے عین درمیان ہونے والے اس حملے کو طلبہ نے ایک بڑی تباہی قرار دیا ہے، کیونکہ ویب سائٹ کریش ہونے سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے اور وہ اپنے کورس میٹریل تک رسائی سے محروم ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ’او‘ اور ’اے‘ لیول کے امتحانات منسوخ، طلبہ کا مستقبل تاریک
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر کارنیل یونیورسٹی سمیت مختلف اداروں کی انتظامیہ نے طلبہ کو متبادل طریقے فراہم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈیڈ لائنز میں نرمی برتیں۔
فی الوقت کینوس کا سسٹم آف لائن ہے اور یونیورسٹیاں اس سائبر حملے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہی ہیں۔














