فلسطین کی حمایت کرنے پر میلیسا بیریرا پر کیا بیتی؟ اداکارہ نے پہلی بار کھل کر گفتگو کی

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہالی ووڈ کی معروف فلم سیریز ’اسکریم‘ کی اداکارہ میلیسا بیریرا نے 2023 میں اسرائیل کی غزہ پر جنگ پر تنقید کے بعد اپنے کیریئر میں پیش آنے والے حالات پر گفتگو کی ہے۔

انہوں نے میگزین ویرائٹی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں اس وقت ’کینسل کلچر‘ کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں فلم اسکریم سیون سے بھی ہٹا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ’میں کیوں نہ بولوں‘؟ ہسپانوی اداکار جیویر بارڈیم فلسطین کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے

اداکارہ کے مطابق وہ ایک طرف یہ سوچ رہی تھیں کہ ان کا کیریئر ختم ہو گیا ہے جبکہ دوسری طرف انہیں امید تھی کہ حالات بدلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان ابتدائی افراد میں شامل تھیں جنہوں نے فلسطین کے حق میں آواز اٹھائی، جس کی وجہ سے انہیں غیر معمولی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

Melissa Barrera responds to 'Scream VII' firing
میلیسا بیریرا

میلیسا بیریرا نے دعویٰ کیا کہ صنعت میں اب بھی کچھ لوگ ان کے خلاف ذاتی رنجش رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک دوست نے تنظیم آرٹسٹس فار فلسطین سے بتایا کہ دیگر فنکاروں کو اتنی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا انہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: ’فری فلسطین‘ آئرش اداکارہ ڈینیس گو نے غزہ کے لیے آواز بلند کرنے کی اپیل کردی

اداکارہ نے کہا کہ وہ 10 ماہ تک بے روزگار رہیں تاہم بعد میں فلم ساز بوٹس رائلی نے انہیں فلم ’آئی لو بوسٹرز‘ میں موقع دیا۔ اب وہ کوپن ہیگن ٹیسٹ اور براڈوے ڈرامہ ’ٹائٹانک‘ میں کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہالی ووڈ سے دور نیویارک میں تھیٹر ان کے لیے ایک تازہ سانس ثابت ہوا۔ میلیسا بیریرا نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی پروڈکشن کمپنی شروع کر رہی ہیں اور ہم خیال فنکاروں کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں۔ اب انہوں نے کہا کہ وہ مزید مضبوط ہوئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp