وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال ہونے والے ’معرکہ حق‘ کے بعد قوم کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کا عالمی مقام و وقار بلند ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا اور پاکستان نے خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران اہم کردار ادا کیا۔
خواجہ آصف کے مطابق ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات ہیں اور ممکنہ معاہدوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان گیس سمیت تجارت کو مزید فروغ مل سکتا ہے، جبکہ سرحدی سلامتی بھی بہتر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: معرکہ حق میں قومی اتحاد اور عسکری کامیابی کی یادگار، بھارت کو بروقت اور مؤثر جواب دیا گیا، عطا اللہ تارڑ
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے باعث اب عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کو دیانتدار مذاکرات کار کے طور پر اہمیت دی جا رہی ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق اب دنیا پاکستان کے ساتھ بھارت سے مختلف اور بہتر رویہ رکھتی ہے، جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس صورتحال کا احساس ہے لیکن وہ اسے عوامی طور پر تسلیم نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: معرکہ حق کا ایک سال: راجہ بازار راولپنڈی کے شہریوں کا مودی کو سخت پیغام
انہوں نے کہا کہ افغانستان ہندوتوا کے پراکسی اور ایجنٹ کا کردار ادا کررہا ہے، چین افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس کا افغانستان پر اثر بھی ہے، ان کے مطابق چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل خلیج میں امن کا خواہاں نہیں ہوگا، تاہم ایران اور امریکا دونوں میں امن کی خواہش موجود ہے۔














