پاکستان نے ممکنہ توانائی بحرانوں سے نمٹنے اور تیل کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے ملک بھر میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پیٹرول فی لیٹر 14 روپے 92 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 15 روپے مہنگا
عرب نیوز کے مطابق وزارتِ توانائی نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے جو عالمی معیار کے مطابق منصوبہ بندی، تکنیکی جائزے اور مرحلہ وار عملدرآمد کے لیے سفارشات تیار کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران جنگ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کو توانائی کے ممکنہ بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم کے اعلامیے کے مطابق 8 رکنی کمیٹی 11 مئی کو اپنا پہلا اجلاس کرے گی اور 14 مئی تک اپنی سفارشات وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو پیش کرے گی۔ کمیٹی بین الاقوامی کنسلٹنٹس، مالیاتی ماہرین اور قانونی اداروں کے انتخاب کے لیے ٹینڈر دستاویزات بھی تیار کرے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت تیل اور ایل این جی کی درآمدات کے لیے بڑی حد تک مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، جبکہ ملک میں مؤثر اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سسٹم موجود نہیں، جس کی وجہ سے علاقائی کشیدگی یا جنگ کی صورت میں توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق حالیہ دنوں میں قطر سے ایل این جی سپلائی میں تعطل کے بعد پاکستان نے اسپاٹ ایل این جی خریدنے کے لیے 6 مئی کو ٹینڈر جاری کیا تھا، تاہم بعد میں حکومت نے موصول ہونے والی بولیاں مسترد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے سعودی سفیر کی ملاقات، پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون کا جائزہ
اعلامیے کے مطابق منتخب کنسلٹنٹس پاکستان میں مجوزہ ذخیرہ گاہوں کے تکنیکی، حفاظتی، مالیاتی اور قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ موجودہ انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور رابطہ نظام کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ انہیں مستقبل میں استعمال کیا جا سکے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر آبنائے ہرمز تین ماہ تک بند رہی تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ پاکستان کا ماہانہ درآمدی بل 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ اس صورتحال سے ملک میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد تک جا سکتی ہے۔














