بنگلہ دیش کا بھارت اور چین کے مہنگے بجلی منصوبوں پر نظرثانی کا فیصلہ

ہفتہ 9 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

بنگلہ دیش کی پاور اتھارٹیز نے بھارت اور چین کی شراکت سے قائم کئی بڑے کوئلہ بجلی منصوبوں کے مہنگے ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان معاہدوں کا ازسرنو جائزہ شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان منشیات اسمگلنگ اور مالی جرائم کے خلاف تاریخی معاہدے پر دستخط

حکام کے مطابق ان منصوبوں کے تحت بجلی کی پیداوار کی لاگت غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس کے باعث حکومت کو سالانہ اربوں ٹکا سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔ جائزے میں بھارت کے گڈا پاور پلانٹ، بھارت بنگلہ دیش مشترکہ رامل پلانٹ، چین کے تعاون سے قائم پایرا تھرمل پلانٹ اور آر پی سی ایل-نورینکو منصوبہ شامل ہیں۔

توانائی حکام کا کہنا ہے کہ سابق حکومت کے دور میں کیے گئے طویل المدتی معاہدوں میں ایسے شرائط شامل ہیں جنہوں نے بجلی کی قیمت اور مالی بوجھ میں اضافہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: انتخابات کے بعد سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں، فخرالاسلام

اب بنگلہ دیش حکومت بھارت اور چین کے ساتھ سفارتی سطح پر ان معاہدوں پر نظرثانی اور ٹیرف میں کمی کے لیے بات چیت پر غور کر رہی ہے، تاکہ قومی بجٹ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے