بنگلہ دیش: انتخابات کے بعد سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں، فخرالاسلام

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیشی وزیر برائے دیہی ترقی مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے خبردار کیا ہے کہ ’جولائی تحریک‘ کے نتیجے میں رونما سیاسی تبدیلی کو عدم استحکام پیدا کرنے والی سازشوں سے محفوظ بنانا ہوگا تاکہ بنگلہ دیش میں جمہوری انتقالِ اقتدار کا عمل متاثر نہ ہو۔

نوبیل انعام یافتہ شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کی 165 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ’جولائی تحریک‘ کو بنگلہ دیش کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عوام طبی اخراجات کا 79 فیصد خود ادا کرنے پر مجبور، صحت کا بحران سنگین

’ہمارے نوجوانوں اور طلبہ نے جولائی میں مل کر جدوجہد کی، ہم اسے جولائی جنگ سمجھتے ہیں، اس جدوجہد کے نتیجے میں بڑی تبدیلیاں آئیں، نئے انتخابات کے ذریعے پارلیمنٹ قائم ہوئی اور عوام میں نئی امیدیں پیدا ہوئیں۔‘

وزیر دیہی ترقی نے الزام عائد کیا کہ سابق حکومت ایک تباہ حال معیشت اور کمزور ریاستی ادارے چھوڑ کر گئی۔ ان کے مطابق سابق حکمران قوتیں کرپشن، منی لانڈرنگ اور بدانتظامی میں ملوث رہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی حکومت کا امن و امان کی ذمہ داریوں سے فوج کو مرحلہ وار نکالنے کا فیصلہ

’فاشسٹ قوتوں نے اقتدار چھوڑنے سے پہلے ملک کو تباہ کر دیا۔ بینک لوٹے گئے، سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا گیا، تعلیمی اداروں اور صحت کے نظام کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ انتظامی ڈھانچہ بھی کمزور کر دیا گیا۔‘

کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر وزیر برائے دیہی ترقی نے خبردار کیا کہ بعض عناصر معمولی مسائل کو بنیاد بنا کر ملک میں بدامنی پھیلانے اور انتخابات کے بعد قائم ہونے والے سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی معمولی تنازعات یا دیگر معاملات کی آڑ میں ملک میں انتشار پیدا کرے، موجودہ تبدیلی کو کسی اور سمت موڑنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں لیکن بنگلہ دیش کے عوام ایسی کوششوں کا مقابلہ کریں گے۔‘

انہوں نے فصلوں کی کٹائی کے موجودہ سیزن میں کسانوں کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا۔

مزید پڑھیں: چین اور بنگلہ دیش کا باہمی تعلقات مزید بہتر کرنے اور تزویراتی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

قریبی زرعی علاقوں کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ کسان دھان کی مناسب قیمتوں کے ساتھ ساتھ بیج اور کھاد کی سستے داموں فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

’ہم ان مسائل کے حل کی کوشش کر رہے ہیں، وزیر اعظم ذاتی طور پر کسانوں کی صورتحال بہتر بنانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: حکومت کا 2024 تحریک سے متعلق مقدمات پر نظرثانی کا اعلان

فخر الاسلام کے مطابق، کچھ عناصر مسلسل بے یقینی پھیلانے اور سیاسی ماحول کو کشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’ایک مایوس گروہ ایسا ہے جو ہمیشہ معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن سب کو 1971 کی جنگِ آزادی کی روح اور اپنی بنگلہ دیشی شناخت کو یاد رکھنا چاہیے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp