آئی ایم ایف کی پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری، مزید سخت شرائط عائد

ہفتہ 9 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قرض قسط کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس کے ساتھ ایک درجن سے زائد نئی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔ یہ رقم آئندہ ہفتے کے آغاز میں جاری کی جائے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس نئی قسط کے بعد پاکستان کو 2 مختلف پروگرامز کے تحت مجموعی طور پر 8.4 ارب ڈالر میں سے 4.5 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔ مزید ایک ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور 200 ملین ڈالر کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت دستیاب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف کی وارننگ، حکومت نے پیٹرول کا کروز میزائل داغ دیا، حقائق کیوں چھپائے گئے؟

حکام کا کہنا ہے کہ اس رقم کے اجرا سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، تاہم آئی ایم ایف نے پاکستان کو پہلے سے طے شدہ مالی اور مانیٹری اہداف پر سختی سے عمل کرنے کی شرط برقرار رکھی ہے۔

آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ اگر دسمبر 2025 تک محصولات میں کمی ہوئی تو حکومت کو منی بجٹ لانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے بجلی، گیس اور ٹیکس اصلاحات سمیت متعدد سخت اقدامات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

معاہدے کے تحت پاکستان نے آئندہ مالی سال کے لیے 3.4 ٹریلین روپے کے بنیادی سرپلس اور اگلے سال 2.84 ٹریلین روپے سرپلس کا ہدف تسلیم کیا ہے، جو جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد کے برابر ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے دسمبر 2025 کے بیشتر مالی اہداف پورے کیے ہیں، تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس وصولیوں میں مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، شرح سود 11.5 فیصد تک رکھنے اور مہنگائی کی صورتحال کے مطابق مزید اضافہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں بھی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے، جس کے تحت بجلی اور گیس کے ٹیرف وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ کیے جائیں گے تاکہ سبسڈی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی

معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ اسپیشل اکنامک زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں ترمیم کی جائے گی، تاکہ ٹیکس مراعات مرحلہ وار ختم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو مقامی مارکیٹ میں فروخت پر پابندی بھی عائد کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان معاشی استحکام، ساختی اصلاحات اور طویل المدتی ترقی کے لیے سخت مالی نظم و ضبط جاری رکھے گا۔

حکام کے مطابق آئی ایم ایف نے مجموعی طور پر تقریباً 75 شرائط عائد کی ہیں، جو اقتصادی پالیسی، گورننس اور نجی شعبے کی اصلاحات سے متعلق ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی معاشی دباؤ کے باوجود اصلاحاتی راستہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاکہ پاکستان کو مالی استحکام کی طرف لایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی