برطانیہ میں بادشاہت کے خلاف احتجاجی مظاہرے اس وقت شدت اختیار کر گئے جب مظاہرین نے شاہی محل کی جانب مارچ کرتے ہوئے سیکیورٹی حصار کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا جب مظاہرین نے کنگ چارلس سوم کی رہائش گاہ بکنگھم پیلس کے باہر احتجاج کیا۔
مظاہرین پہلے ٹرافلگر اسکوائر میں جمع ہوئے اور بعد ازاں شاہی محل کی جانب روانہ ہوئے جہاں انہوں نے بادشاہت کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ نعرے بازی کی۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر ‘بادشاہت ختم کرو’ اور ‘یہ میرا بادشاہ نہیں’ جیسے نعرے درج تھے۔
یہ بھی پڑھیے: شاہی رہائش گاہ ’سینڈرنگھم اسٹیٹ‘ کے دروازے سیاحوں کے لیے کھل گئے؛ پہلی بار شاہ چارلس کے بیڈ روم کا دورہ
یہ احتجاج ریپبلک نامی تنظیم کے زیر اہتمام کیا گیا، جس کے کارکنان گزشتہ برسوں میں اپنی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کر چکے ہیں۔ تنظیم کے سی ای او گراہم اسمتھ نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال اور بادشاہ چارلس کی تاجپوشی کے بعد ان کی تحریک کو غیر معمولی تقویت ملی ہے۔
مظاہرے میں شریک لندن کی رہائشی الزبتھ میک انٹائر نے برطانوی طبقاتی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام معاشرے میں غیر منصفانہ درجہ بندی پیدا کرتا ہے، جو قابل قبول نہیں۔
تنظیم کے مطابق حالیہ برسوں میں بادشاہت کے خلاف عوامی آواز میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ شاہی خاندان کو مختلف تنازعات اور عوامی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
حکام نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی، تاہم مظاہرین پرامن انداز میں اپنے مطالبات جاری رکھتے رہے۔














