گزشتہ سال 9 اور 10 مئی کو پاک بھارت جنگ نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی، جب بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملوں کے بعد پاکستان نے بھرپور اور منظم جواب دیا۔ جوابی کارروائی اتنی مؤثر، تیز اور فیصلہ کن تھی کہ بھارت صرف چند گھنٹوں میں ہی شدید دباؤ کا شکار ہوگیا اور بالآخر امریکا کے ذریعے جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوگیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید تاریخ میں عموماً جنگیں کئی کئی روز، ہفتوں بلکہ بعض اوقات مہینوں تک جاری رہتی ہیں۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ 17 روز تک جاری رہی، 1971 کی جنگ قریباً 2 ہفتے چلی، جبکہ روس یوکرین جنگ برسوں سے جاری ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے پاکستان خطے میں توازن اور استحکام کی علامت کے طور پر ابھرا، صدر مملکت
اسی طرح مشرق وسطیٰ کی متعدد جنگوں نے طویل عرصے تک دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا، تاہم پاکستان اور بھارت جیسی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان شدید عسکری کشیدگی کا اتنی تیزی سے اختتام دنیا کے لیے حیران کن ثابت ہوا۔
افواج پاکستان نے مربوط حکمت عملی کے تحت بھارت کو جواب دیا، بریگیڈیئر (ر) حارث نواز
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کے مطابق پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں برتری دکھائی بلکہ پوری قوم متحد ہو کر ایک آواز بن گئی، پاکستانی افواج نے مربوط حکمت عملی کے تحت دشمن کو ایسا جواب دیا جس سے بھارت شدید دباؤ میں آگیا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ایئر فورس نے بھارتی طیارے مار گرائے، میزائل سسٹمز کو نشانہ بنایا، جبکہ سائبر محاذ پر بھی بھارت کے اہم نظام متاثر ہوئے۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز نے کہاکہ پاکستان نے انتہائی ذمہ دار اور پروفیشنل ریاست کا کردار ادا کیا، جبکہ بھارت کی جارحیت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگئی۔
ان کے مطابق پاکستان کی کارروائیوں کے بعد بھارت کی عسکری اور سیاسی قیادت شدید کنفیوژن کا شکار ہوگئی تھی، جس کے باعث نئی دہلی نے فوری طور پر امریکا سے رابطہ کرکے جنگ بندی کی درخواست کی۔
مسلح افواج نے اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا، اعزاز چوہدری
دفاعی تجزیہ کار اعزاز احمد چوہدری نے کہاکہ بھارت نے رات کی تاریکی میں غیر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے، لیکن پاکستان نے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے جدید جنگی حکمت عملی، ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر، سائبر آپریشنز اور میزائل حملوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہاکہ معرکہ حق نے بھارت کے اس تصور کو توڑ دیا کہ وہ خطے میں واحد طاقت ہے، پاکستان کے جواب نے نہ صرف بھارتی عسکری برتری کے دعوؤں کو نقصان پہنچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا سفارتی اور دفاعی وقار بھی بلند کیا۔
پاکستان نے برسوں پہلے ہی جدید فضائی اور الیکٹرانک جنگی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا تھا، ایئر مارشل (ر) سعید محمد خان
ایئر مارشل (ر) سعید محمد خان نے پاکستان ایئر فورس کی کارکردگی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے برسوں پہلے ہی جدید فضائی اور الیکٹرانک جنگی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا تھا، پاکستان نے بھارتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو جام کردیا، ریڈار سسٹمز کو متاثر کیا اور دشمن کے جدید جنگی طیاروں کو مؤثر انداز میں غیر فعال بنا دیا، جس سے بھارت مکمل طور پر بلائینڈ ہوگیا تھا اور اس نے امریکا سے فوری جنگ بندی کرانے کی درخواست کی۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی فضائیہ کو جدید رافیل طیاروں کو فرنٹ لائن سے ہٹانا پڑا اور کئی روز تک انہیں استعمال نہیں کیا گیا، جو پاکستان کی فضائی برتری کا واضح ثبوت تھا۔
ان کے مطابق پاکستان نے دشمن کے جدید دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنا کر اپنی عسکری مہارت دنیا کے سامنے منوا لی۔
مزید پڑھیں: پاکستان غیرت مند قوم، جارحیت سے جھکایا نہیں جاسکتا، وزیراعظم کا معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پیغام
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے بعد پاکستان نہ صرف خطے میں ایک اسٹیبلائزر کے طور پر سامنے آیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی ساکھ مضبوط ہوئی۔ مختلف ممالک نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، سفارتی حکمت عملی اور ذمہ دارانہ طرز عمل کو سراہا۔
ماہرین کے مطابق 10 مئی کا جواب صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کی عسکری تیاری، قومی اتحاد، جدید ٹیکنالوجی اور فوری فیصلہ سازی کی ایسی مثال تھی جس نے بھارت کو مختصر وقت میں جنگ بندی پر مجبور کردیا اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی تصورات بدل کر رکھ دیے۔













