28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، کہا جا رہا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل بعض اہم آئینی ترامیم کی منظوری چاہتی ہیں، جبکہ آصف علی زرداری مبینہ طور پر ان ترامیم کو مؤخر کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیاسی حلقوں کے مطابق حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ 8 جون سے پہلے پہلے آئینی ترامیم منظور کرا لی جائیں تاکہ نئے بجٹ میں این ایف سی ایوارڈ، تعلیم، صحت اور دیگر صوبائی اختیارات سے متعلق تبدیلیوں کو شامل کیا جا سکے۔ اگر 9 جون کو بجٹ سیشن طلب ہو جاتا ہے تو پھر پارلیمان میں صرف بجٹ سے متعلق قانون سازی ہو سکے گی اور آئینی ترمیم کو مؤخر کرنا پڑے گا۔
مزید پڑھیں: کیا 28ویں آئینی ترمیم ایران امریکا مذاکرات کے باعث پس منظر میں چلی گئی؟
کچھ صحافتی حلقوں میں بھی یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صدر زرداری کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے 8 جون تک اس ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہ ہونے دیا جائے تاکہ نئے مالی سال کا بجٹ موجودہ آئینی ڈھانچے کے تحت منظور ہو اور این ایف سی سمیت دیگر معاملات میں فوری تبدیلی نہ کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی معاملات پر پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔
حکومت کی جانب سے ان خبروں کی واضح تردید سامنے آئی ہے، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی اموت ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ فی الحال کسی بھی سطح پر آئینی ترمیم زیر غور نہیں ہے، آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور جب تک اتحادی جماعتوں کے ساتھ مکمل اتفاق رائے نہ ہو، ایسی کوئی ترمیم پیش نہیں کی جا سکتی۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق نہ تو حکومت نے ابھی تک کوئی حتمی مسودہ تیار کیا ہے اور نہ ہی اتحادی جماعتوں کے ساتھ اس حوالے سے کوئی باضابطہ مشاورت مکمل ہوئی ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ موجودہ اجلاس میں آئینی ترمیم پیش یا منظور ہونے جا رہی ہے۔
ترجمان پیپلزپارٹی نیئر بخاری نے بھی ایسی خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بطور اتحادی پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی آئینی ترمیم کا کوئی ڈرافٹ شیئر نہیں کیا اور نہ ہی اس موضوع پر کوئی مشترکہ اجلاس یا مشاورت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی کوئی آئینی ترمیم زیر غور ہوتی تو اس کا ابتدائی خاکہ یا مسودہ اتحادیوں کے سامنے ضرور رکھا جاتا۔
مزید پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم ایم کیو ایم پاکستان کے لیے سیاسی بقا کا معاملہ کیوں؟
پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آئینی ترمیم ایک سنجیدہ اور بڑا معاملہ ہوتا ہے جس پر طویل مشاورت اور تفصیلی غور کیا جاتا ہے، اس وقت پیپلز پارٹی کے اندر بھی ایسی کسی ترمیم پر کوئی گفتگو نہیں ہو رہی اور میڈیا میں گردش کرنے والی اطلاعات محض قیاس آرائیاں معلوم ہوتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت واقعی 8 جون سے پہلے آئینی ترمیم لانا چاہتی ہے تو اسے اتحادی جماعتوں سمیت پارلیمان میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہوگی، جو موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور حکومتی وزرا کے محتاط بیانات سے یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی آئینی پیکج پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔













