پنجاب حکومت نے صوبے میں انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی اجازت دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کو پرانے کرایوں پر عملدرآمد جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باوجود مسافروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ کرایوں میں خودساختہ اضافہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد پولیس کا شہریوں سے زیادہ کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن
محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس فیصلے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو خصوصی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ مختلف شہروں کے بس اڈوں پر چیکنگ ٹیمیں بھی متحرک کر دی گئی ہیں تاکہ زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری ایکشن لیا جا سکے۔
سیکریٹری آر ٹی اے لاہور رانا محسن کا کہنا ہے کہ انٹرسٹی ٹرانسپورٹرز سے کرایے برقرار رکھنے کے حوالے سے باقاعدہ بیان حلفی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد کرایوں میں 5 فیصد اضافہ کیا تھا، تاہم حکومت نے یہ اضافہ فوری واپس لینے کا حکم دے دیا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی مسافروں سے اضافی کرایہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔














