بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے ابتدائی تعلیم بوبی حجاج نے اتوار کو کاکس بازار کے اوکھیا علاقے میں قائم روہنگیا کیمپوں کے مختلف تعلیمی مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بے گھر روہنگیا بچوں کے لیے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔
دورے کے دوران بوبی حجاج نے یونیسیف اور براک کے زیرانتظام 3 لرننگ سینٹرز کا معائنہ کیا اور روہنگیا طلبہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے بچوں کے تعلیمی تجربات، مستقبل کے خوابوں اور خواہشات کے بارے میں گفتگو بھی کی۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا کے باغی رہنما نبی حسین کا بھائی فائرنگ کے واقعے میں قتل
وزیرمملکت نے روہنگیا برادری کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں جبکہ اساتذہ اور تعلیمی عملے نے انہیں تعلیمی مراکز کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں انفرااسٹرکچر کی کمی، تعلیمی مواد کی قلت اور تربیت سے متعلق مشکلات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
اس موقع پر بوبی حجاج نے کہا کہ ہر بچے کو خواب دیکھنے کا حق حاصل ہے اور انسانی بحران کے دوران بھی تعلیم تک رسائی یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف علم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ نئی نسل کو تشدد، مایوسی اور غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ہتھیار بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگلادیشی حکومت روہنگیا بچوں کے لیے محفوظ، انسانی اور تعلیم دوست ماحول کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری، ترقیاتی شراکت داروں اور فلاحی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ کا بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کے لیے امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
حکام کے مطابق ان تعلیمی مراکز میں میانمار نصاب کے تحت جماعت 12 تک تعلیم دی جارہی ہے، جس میں میانمار زبان، انگریزی، ریاضی، جغرافیہ، تاریخ اور سائنس سمیت 6 مضامین شامل ہیں۔
دورے کے موقع پر یونیسیف، براک اور ریفیوجی ریلیف اینڈ ریپیٹری ایشن کمشنر کے دفتر کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔














