سپریم کورٹ نے نکاح نامہ میں جہیز اور حق مہر سے متعلق اندراجات کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیوں کی ہدایت جاری کردی ہے اور حکومت کو ہدایت دی ہے کہ نکاح نامے میں ایک الگ کالم شامل کیا جائے جس میں اس شخص کی ملکیت واضح کی جائے جو حق مہر کے طور پر جائیداد دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔
عدالت کے مطابق اگر شوہر یا کوئی اور شخص حق مہر کی جائیداد دینے پر رضامند ہو تو اس اندراج کے سامنے اس کے دستخط یا انگوٹھے کا نشان لازمی ہونا چاہیے تاکہ بعد میں قانونی تنازعات سے بچا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیے: فاتحہ خوانی کی تقریب میں کراس فائرنگ کیس، سپریم کورٹ نے مجرم کو بری کر دیا
جسٹس شکیل احمد کی جانب سے تحریر کردہ چار صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ جائیداد میں شریک کوئی بھی شخص اپنی حصے سے زیادہ جائیداد منتقل نہیں کرسکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ حق مہر کے طور پر مشترکہ جائیداد کا وعدہ صرف شوہر کے حصے تک محدود ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر جائیداد مشترکہ وراثت ہو تو شوہر یا دیگر شریک صرف اپنے حصے کے مطابق ہی تصرف کرسکتے ہیں، پوری جائیداد دینے کا قانونی اختیار نہیں رکھتے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نکاح کے وقت اگر کسی جائیداد کو حق مہر قرار دیا جائے تو یہ اس شرط کے ساتھ درست ہوگا کہ دینے والے کے پاس اس کی قانونی ملکیت یا حصہ موجود ہو۔
یہ بھی پڑھیے: 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار
عدالت نے یہ بھی کہا کہ فراڈ یا غلط بیانی کی صورت میں ضابطہ دیوانی کے سیکشن 12(2) کے تحت فیصلہ چیلنج کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ درخواست اسی عدالت میں دائر کی جائے گی جس نے فیصلہ دیا ہو۔
سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور متعلقہ اداروں تک اس کی کاپیاں ارسال کی جائیں۔














